ترکی کے قوم پرستوں کا اردوغان کو خصوصی منصوبہ

شرحِ پیدائش میں کمی کو ’’قومی بقا کے لئے خطرہ‘‘ قرار
ترکی میں مجموعی شرحِ پیدائش غیر معمولی طور پر کم ہو کر 1.44 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد بھی 11 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر قوم پرست تحریکِ قومی پارٹی (MHP) نے ’’ترکی کا آبادیاتی وژن‘‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی میں کمی کا بحران اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ملک کی بقا اور قومی سلامتی کے لئے براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔
اس رپورٹ میں بڑے خاندانوں کے لئے ٹیکس میں چھوٹ اور رہائشی سہولتوں سمیت غیر معمولی مراعات کی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور اسے باضابطہ طور پر رجب طیب اردوغان کے سامنے رکھا گیا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:
ترکی میں شرحِ پیدائش میں کمی کا سلسلہ 1980 کی دہائی سے جاری ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں تشویش ناک تیزی آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں مجموعی شرحِ پیدائش 2001 میں 2.38 بچوں سے کم ہو کر 2025 میں 1.44 بچوں تک پہنچ گئی ہے، جو 2.10 کی متبادل شرح سے کہیں کم ہے۔
اسی دوران 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 7.95 ملین سے بڑھ کر 9.58 ملین ہو گئی ہے۔
انقرہ سے شائع ہونے والے روزنامہ جمهوریت (Cumhuriyet) کے مطابق، رجب طیب اردوغان کے ’’عوامی اتحاد‘‘ کے اہم اتحادی، قوم پرست تحریکِ قومی پارٹی نے پارٹی کے بااثر جنرل سیکریٹری دولت باچلی کے معاونین میں سے ایک، اوزگور بیرقدار کی جانب سے تیار کردہ ایک تزویراتی رپورٹ صدرِ ترکیہ کو پیش کی ہے۔
روزنامہ جمهوریت نے پارٹی کے عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تحریکِ قومی پارٹی شرحِ پیدائش میں شدید کمی پر گہری تشویش رکھتی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی طاقت اور پائیداری کا انحصار صرف زیرِ زمین وسائل یا فوجی ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے نوجوان اور متحرک افرادی قوت بھی ضروری ہے۔
تجزیہ کار اس صورتِ حال کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ سماجی امور کی ماہر مروہ دوندار کے مطابق، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے معاشی مسائل کے ساتھ سماجی رویوں میں آنے والی تبدیلیاں بھی شرحِ پیدائش میں کمی کا سبب ہیں۔
دوسری جانب حاجت تپہ یونیورسٹی کے آبادیاتی ماہر پروفیسر عصمت کوچ اسے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی قدرتی ’’آبادیاتی منتقلی‘‘ کے عمل کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے معاشی بحران نے یہاں تک کہ اردوغان کو بھی اپنے معروف مشورے، یعنی خاندان میں کم از کم تین بچوں کی ضرورت، سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
روزنامہ جمهوریت کی رپورٹ میں اس آبادیاتی تبدیلی کے سلامتی اور نسلی پہلو کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔
ترکی کے 81 میں سے 76 صوبوں میں شرحِ پیدائش متبادل سطح سے نیچے آ چکی ہے۔ دوسری طرف سب سے زیادہ شرحِ پیدائش عموماً ملک کے جنوب اور جنوب مشرقی علاقوں کے کرد آبادی والے صوبوں اور شامی پناہ گزینوں میں پائی جاتی ہے۔ قوم پرستوں کے نزدیک یہ صورتِ حال مستقبل میں آبادی کے نسلی توازن اور فوج و معیشت کے لئے درکار افرادی قوت کی فراہمی کے لئے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
تحریکِ قومی پارٹی نے اپنی 11 نکاتی دستاویز میں حکومت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں تین یا اس سے زیادہ بچوں والے خاندانوں کو آمدنی پر مکمل ٹیکس چھوٹ، ماؤں کے لیے 12 ماہ اور باپوں کے لیے 2 ماہ کی رخصت، طویل مدتی اور بلاسود رہائشی و گاڑیوں کے قرضے، جبکہ بجلی، پانی اور انٹرنیٹ جیسی عوامی خدمات نصف قیمت پر فراہم کرنا شامل ہے۔



