افغانستانپاکستان

پاکستان سے افغان طلبہ کی بے دخلی کا بحران اور لاہور کی عدالت کی عدالتی مداخلت

تعلیمی حقوق کے حوالے سے طالبان کے رویے میں تضادات اور کابل میں شیعہ تعلیمی مراکز کی بندش

اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے نتیجہ میں پاکستان میڈیکل کونسل نے 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کو ملک سے بے دخل کرنے کا حکم جاری کیا۔

اس فیصلہ کو انسانی حقوق کے حوالے سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر لاہور کی عدالت کے عبوری حکم کے ذریعہ اسے روک دیا گیا۔

تاہم طالبان حکومت کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج اور اسے ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیے جانے کے باعث، خواتین کی تعلیم پر پابندی جاری رکھنے اور کابل میں حوزۂ علمیہ و خاتم النبیین یونیورسٹی کو سیل اور جبری طور پر خالی کرانے کے تناظر میں طالبان کے رویے پر شدید تنقید اور دوہری پالیسی اختیار کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:

پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کے شعبوں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کا بحران جولائی کے اواخر میں شروع ہوا اور ستمبر 2026 کے اوائل میں اس نے نئی شدت اختیار کرلی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی ہدایت کے مطابق، ملک کی جامعات کو حکم دیا گیا کہ تمام افغان شہریوں کے داخلے منسوخ کرکے انہیں ان کے ملک واپس بھیجا جائے۔

اس حکم میں وہ طلبہ بھی شامل تھے جو حکومتِ پاکستان کی سرکاری ’’علامہ محمد اقبال‘‘ اسکالرشپ کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

پاکستان کی یونیورسٹیز، جن میں لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی بھی شامل ہے، نے بعض طلبہ کو ہاسٹل خالی کرنے اور ملک چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹے کی مختصر مہلت دی۔

اس غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک فوری طور پر بڑے پیمانے پر مخالفت سامنے آئی۔

الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے بیانات میں اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی تنازعات کے باعث طلبہ کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔

اسی طرح پاکستانی سینیٹ میں اپوزیشن کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے واضح طور پر اس فیصلے کو بین الاقوامی عرف کے منافی اور انتقامی سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔

بالآخر 13 طلبہ کی جانب سے دائر شکایت کے بعد لاہور کی عدالت نے ہنگامی حکم جاری کرتے ہوئے مکمل عدالتی جائزے تک اخراج کے حکم پر عارضی طور پر عمل درآمد روک دیا اور طلبہ کو دوبارہ اپنی کلاسوں میں واپس جانے کی ہدایت کی۔

تاہم اس معاملے کے سیاسی پہلو طالبان حکومت کے ردِعمل کے بعد مزید پیچیدہ ہوگئے۔

طالبان حکام نے اپنے بیانات میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

لیکن تجزیہ کاروں اور ذرائع ابلاغ نے طالبان کے اس مؤقف کا افغانستان کے اندر ان کے حالیہ طرزِ عمل سے تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔

میدانی رپورٹس کے مطابق، عین انہی دنوں میں جب طالبان پاکستان میں تعلیم کو سیاست سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے، طالبان کی وزارتِ عدلیہ کے اہلکاروں نے کابل میں خاتم النبیین حوزہ علمیہ و یونیورسٹی، جو شیعہ مسلمانوں کے اہم دینی و تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے، کا محاصرہ کیا، 24 اساتذہ اور طلبہ کو گرفتار کیا اور بالآخر اس مرکز کو زبردستی خالی کرا لیا۔

طالبان کے اس رویے میں واضح تضاد نے ان کے دعووں کی ساکھ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کئے ہیں۔

ایک جانب یہ حکومت پاکستان سے واپس آنے والے طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کا وعدہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب طالبان نے خواتین کی یونیورسٹی تعلیم، خصوصاً میڈیکل کے شعبے میں تعلیم، دسمبر 2024 سے مکمل طور پر ممنوع قرار دے رکھی ہے۔ لہٰذا طالبات کی افغانستان واپسی ان کے تعلیمی مستقبل کے مکمل خاتمے کے مترادف ہوگی۔

دوسری جانب کابل میں شیعہ تعلیمی اداروں کے خلاف ’’سیاسی وابستگی‘‘ یا جائیداد سے متعلق تنازعات کے بہانے طاقت کا استعمال اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان حکومت خود ’’تعلیم کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے‘‘ کے اصول کی اولین خلاف ورزی کرنے والوں میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button