ازمیر کے میئر کا حزبِ اختلاف سے استعفیٰ؛ جماعتی اختلافات کے بعد آزاد حیثیت سے خدمات جاری رکھنے کا اعلان

ترکی کی سب سے بڑی حزبِ اختلاف، جمہوریہ خلق پارٹی (سی ایچ پی) کی ازمیر شاخ میں جاری اندرونی اختلافات اور کشیدگی کے بعد ازمیر کے میئر جمیل توگای نے باضابطہ طور پر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ استعفیٰ صوبائی سطح پر تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیوں، بعض عہدیداروں کی برطرفی اور نئی تقرریوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شدید اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
اس فیصلے نے ترک سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں وسیع توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ ازمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے جمہوریہ خلق پارٹی کا ایک مضبوط سیاسی اور انتخابی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے ترکی میں حزبِ اختلاف کے اہم ترین گڑھوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمیل توگای نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ وہ پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو رہے ہیں، لیکن میئر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کے بغیر ایک آزاد حیثیت میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے اور ازمیر کے شہریوں کی خدمت کا سلسلہ بدستور جاری رکھیں گے۔
جمیل توگای کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح شہر کی ترقی، عوامی خدمات کی بہتری اور شہری مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھنا ہے، اور وہ سیاسی اختلافات کو عوامی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔
دوسری جانب، جمہوریہ خلق پارٹی کی مرکزی قیادت نے تاحال اس استعفے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف یا ردِعمل جاری نہیں کیا ہے، جس کے باعث سیاسی مبصرین اس معاملے کی آئندہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



