ربیع الاول — یومِ وفاتِ عالمِ ربانی آیۃ اللہ میر محمدباقر خاتونآبادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ تشیع کے اوراق میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا تذکرہ صرف تاریخ بیان کرنا نہیں، بلکہ علم، تقویٰ، اخلاص اور دیانت کی ایک روشن روایت کو یاد کرنا ہے۔ آیۃ اللہ میر محمد باقر خاتونآبادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی باوقار اور قابلِ احترام علماء میں سے تھے، جنہوں نے صفوی عہد کے آخری زمانے میں علمِ دین کی شمع روشن رکھی اور اپنی علمی، تدریسی اور دینی خدمات کے ذریعے اہلِ ایمان کی رہنمائی کی۔
6 ربیع الاول 1127ھ کو یہ مردِ علم و فضیلت دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی علمی و دینی میراث آج بھی زندہ ہے۔ ان کا یومِ وفات دراصل ایک ایسے عالم کی یاد کا دن ہے جس نے علم کو محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے فہم و فراست، عبادت اور خدمتِ دین کا وسیلہ بنایا۔
آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ 1070ھ میں ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر محمداسماعیل رضوان اللہ تعالیٰ علیہ خود اصفہان کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے۔ چنانچہ بچپن ہی سے ان کی تربیت علم و فضل کے ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے والد اور آقا حسین خوانساری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کیا اور اپنی خداداد صلاحیت، خوش بیانی اور تدریسی مہارت کے باعث جلد ہی علمی حلقوں میں ممتاز مقام حاصل کرلیا۔
ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی، بیان کی شیرینی، فکر کی پختگی اور کردار کی پاکیزگی جمع تھی۔ وہ صرف کتابوں کے عالم نہیں تھے، بلکہ ان کے علم میں عمل کی خوشبو اور ان کے کلام میں دین کی حرارت محسوس ہوتی تھی۔
شاہ سلطان حسین صفوی کو آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے خاص عقیدت تھی۔ وہ انہیں اپنا استاد سمجھتا، ان سے مشورہ کرتا اور ان کی علمی شخصیت کو اپنے دربار میں ممتاز مقام دیتا تھا۔ مگر یہ قربت اس مردِ خدا کے دل میں دنیا کی محبت پیدا نہ کرسکی۔
1115ھ میں جب اصفہان کے شیخ الاسلام کا منصب خالی ہوا تو شاہ سلطان حسین نے بارہا اصرار کرکے یہ منصب آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ کو پیش کیا۔ لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حتیٰ کہ آقا جمال خوانساری قدس سرہ کے ذریعہ بھی انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے اپنے موقف سے رجوع نہ کیا۔
یہ انکار محض ایک منصب سے انکار نہ تھا؛ یہ تقویٰ کی اس کیفیت کا اظہار تھا جس میں انسان اپنے نفس سے زیادہ اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہونے کو محسوس کرتا ہے۔
وہ جانتے تھے کہ دینی منصب محض عزت کا تاج نہیں، بلکہ ایک بھاری امانت ہے۔ اسی لئے انہوں نے اپنے آپ کو اس ذمہ داری کا اہل نہ سمجھتے ہوئے منصب کو قبول کرنے سے گریز کیا۔
بعد ازاں شاہ سلطان حسین نے علماء کی سربراہی کے لیے ایک نیا منصب قائم کیا جسے ملاباشی کہا گیا اور آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کا پہلا منصب دار مقرر کیا گیا۔ اس منصب کے ذریعہ وہ علماء، طلبہ اور دینی امور کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔
مگر منصب نے ان کے مزاج کو نہیں بدلا۔ وہ اقتدار کے ایوان میں رہ کر بھی اہلِ علم کی خدمت اور اہلِ ایمان کی خیر خواہی کو اپنا مقصد سمجھتے رہے۔
لیکن ہر روشن چراغ کے گرد پروانے ہی نہیں ہوتے، کبھی حسد کی ہوائیں بھی اٹھتی ہیں۔ آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی بڑھتی ہوئی علمی و سماجی مقبولیت بعض لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئی۔
1127ھ میں اصفہان میں روٹی کی قیمت بڑھنے پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ اس اضافے کے پیچھے آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا مشورہ ہے۔ ایک جھوٹا الزام، ایک بے بنیاد افواہ اور مشتعل ہجوم ان کے گھر تک جا پہنچا۔ ان کے گھر پر حملہ ہوا اور وہاں موجود بعض طلاب و متعلقین کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک ایسے عالم کا گھر، جہاں کتابیں علم بانٹتی تھیں، جہاں درس و بحث ہوتی تھی، جہاں دین کی باتیں ہوتی تھیں، اچانک شور و ہنگامے کی زد میں آگیا۔
یہ صدمہ ان کی پہلے سے جاری بیماری پر گراں گزرا اور بالآخر 6 ربیع الاول 1127ھ کو آیۃ اللہ میر محمدباقر خاتونآبادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس دنیا کو الوداع کہا۔
بعض تاریخی منابع میں ان کی وفات کو مسموم کئے جانے سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اور اسی نسبت سے انہیں شہیدِ ثالث کے لقب سے یاد کئے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی علمی میراث کو ان کی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ ان کے فرزندان محمد قدس سرہ اور اسماعیل قدس سرہ بھی علم و فضل کے میدان میں ممتاز ہوئے۔ جناب محمد قدس سرہ نے مدرسۂ چهارباغ میں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ جناب اسماعیل قدس سرہ نے فقہ، حدیث اور تفسیر میں مہارت حاصل کی اور مسجدِ جامع عباسی میںتدریس و اقامتِ جماعت کے فرائض انجام دیے۔
یوں آیۃ اللہ میر محمدباقر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی شمع ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔
آیۃ اللہ میر محمدباقر خاتونآبادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی کا سب سے روشن سبق یہی ہے کہ دنیا کے منصب عارضی ہیں، مگر تقویٰ اور علم کی خوشبو باقی رہتی ہے۔
بادشاہ آئے اور چلے گئے، دربار بدل گئے، سلطنتیں ختم ہوگئیں، مگر ایک عالم کا علم باقی رہ گیا۔ وہ منصب جسے دنیا عزت سمجھتی تھی، اس کے لیے انہوں نے خود کو پیش نہیں کیا؛ لیکن جب دینی ذمہ داری ان کے سامنے آئی تو اسے امانت سمجھ کر ادا کیا۔
یہی اہلِ علم کی شان ہے کہ ان کی عظمت تخت و تاج سے نہیں، بلکہ خدا سے تعلق، دین سے وفاداری اور مخلوق کی خیر خواہی سے ہوتی ہے۔
6 ربیع الاول ہمیں آیۃ اللہ میر محمدباقر خاتونآبادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک عالم کی وفات کا دن نہیں، بلکہ علم و تقویٰ، اخلاص و خودداری اور دینی بصیرت کی ایک روشن داستان کو یاد کرنے کا دن ہے۔
انہوں نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ عالمِ دین کا اصل سرمایہ اس کا منصب نہیں، اس کا علم اور تقویٰ ہے؛ اس کی اصل طاقت بادشاہ کی قربت نہیں، بلکہ خدا کی رضا ہے؛ اور اس کی اصل میراث دنیاوی جاہ و جلال نہیں، بلکہ وہ علم ہے جس سے دلوں میں معرفت اور زندگیوں میں ہدایت پیدا ہو۔
سلام ہو اس مردِ علم و تقویٰ پر،جس نے دنیا کے منصب کو اپنے قدموں کی زنجیر نہ بننے دیا؛
سلام ہو اس عالم پر، جس نے علم کو امانت سمجھا اور دین کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا؛
اور سلام ہو اس علمی چراغ پر، جس کی روشنی آج بھی تاریخِ تشیع کے صفحات سے اہلِ ایمان کے دلوں تک پہنچتی ہے




