مقالات و مضامین

منبرِ حرمین سے اقتدار کی زبان؟ - جب کعبہ کی حرمت یاد رہی، مومن کی حرمت فراموش ہو گئی

تاریخ گواہ ہے کہ دین کو زوال صرف دشمنوں سے نہیں، ان صاحبانِ دستار سے بھی پہنچا جنہوں نے منبر کو دربار کی دہلیز بنا دیا۔ جب قلم حاکم کا محتاج اور فتویٰ مصلحت کا اسیر ہو جائے تو عقال تو سر پر رہتی ہے، عقل رخصت ہو جاتی ہے۔

اموی پروپیگنڈہ ہو یا سانحہ کربلا، المیہ یہی رہا کہ حق کو ’’فتنہ‘‘ اور خاموشی کو ’’حکمت‘‘ بنا کر پیش کیا گیا۔ قاضی شریح کا فتویٰ آج بھی اسی درباری فقہ کی علامت ہے۔

18 ستمبر 2026 کو حرمین شریفین کے منبروں سے حرمتِ مکہ و مدینہ پر سخت لہجے میں گفتگو ہوئی، حالانکہ ڈرون واقعے پر خود سعودی مؤقف کے بعد حوثیوں کی تردید آ چکی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا منبر کو صرف ایک جغرافیہ کی حرمت یاد ہے؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا فرمان ہے: "لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْكِ” مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک کعبہ کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے۔

اگر کعبہ کی طرف اٹھنے والا ہاتھ جرم ہے تو بے گناہ کا خون بہانا کیسے معمولی ہو سکتا ہے؟ اگر مکہ کے شہری کی جان محترم ہے تو لبنان، پاراچنار، قطیف، شام، فلسطین اور ایران کے مظلوم کی جان کیوں فراموش ہے؟ حرمتِ مومن کا کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا۔

منبر کا اصل امتحان مخالف کے ظلم کو ظلم کہنا نہیں، اپنے حلیف کے ظلم پر بھی وہی میزان رکھنا ہے۔

حرمین کے منبر کسی خاندان یا حکومت کی جاگیر نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی امانت ہیں۔ ان سے توقع یہی ہے کہ وہ ہر مظلوم کے لئے رحمت اور ہر ظالم کے لئے یکساں کلمہ حق بنیں۔

بادشاہ گزر گئے، دربار مٹ گئے، مگر حسین علیہ السلام زندہ ہیں، کیونکہ تخت تاریخ پر بیانیہ لکھتا ہے اور حق تاریخ کے دل میں گھر کرتا ہے۔

اور ہر دور کا حسینی سوال آج بھی وہی ہے کہ جب حق اور تخت آمنے سامنے ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button