علماء برصغیر نے حدیثِ غدیر کو علمی و تہذیبی ورثے میں بدل دیا: تحقیقی، ادبی اور مناظرانہ خدمات کا درخشاں باب

واقعۂ غدیر اور حدیثِ "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ” کی حفاظت و ترویج میں برصغیر کے علمائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا۔ دہلی، لکھنو، حیدرآباد دکن، مرشد آباد، امروہہ، جونپور اور کشمیر جیسے علمی مراکز نے غدیر کو محض تاریخی واقعہ نہیں بلکہ زندہ علمی، فکری اور تہذیبی روایت بنا دیا۔
آیۃ اللہ سید دلدار علی نقوی غفران مآب رحمۃ اللہ نے حدیثِ غدیر کو امامتِ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام پر واضح نص کے طور پر پیش کیا۔ علامہ میر حامد حسین موسوی لکھنوی کی شہرۂ آفاق "عبقات الأنوار” نے غدیر و امامت پر دنیا کی عظیم ترین تحقیق قرار پائی، جس میں اہلِ سنت مصادر سے اسناد، رجال اور لفظِ "مولیٰ” کے مفاہیم پر مفصل بحث کی گئی۔ اس کتاب نے علامہ عبد الحسین امینی کی "الغدیر” سمیت بعد کے محققین کو گہرا متاثر کیا۔
شہیدِ ثالث قاضی نوراللہ شوشتری نے "احقاق الحق” اور "مجالس المؤمنین” جبکہ شہیدِ رابع میرزا محمد کامل دہلوی نے "نزہہ اثنا عشریہ” کے ذریعہ امامت و ولایت کا دفاع کیا۔ برصغیر میں ہونے والے شیعہ-سنّی مناظروں نے اصولِ حدیث، رجال، تفسیر اور لغت کے دقیق مباحث کو فروغ دیا۔

غدیری مباحث کو اردو میں منتقل کرنے سے یہ علم عوامی شعور کا حصہ بنا۔ میر انیس اور مرزا دبیر نے ولایتِ علی کو مرثیہ نگاری کا موضوع بنایا۔ لکھنو، حیدرآباد دکن اور مرشد آباد میں جشنِ غدیر تہذیبی روایت بن گیا جہاں علمی مجالس، خطبات اور شعری نشستیں منعقد ہوئیں۔
علامہ سید عدیل اختر رضوی طاب ثراہ نے احقاق حق اور ابطال باطل میں متعدد تحقیقی کتابیں لکھیں۔ نیز مرحوم سلطان الواعظین شیرازی کے پیشاور کے تاریخی مناظرہ میں ان کے خاص معاون رہے۔
اسی طرح رئس الواعظین مولانا سید کرار حسین واعظ طاب ثراہ کا نام نامی بھی نا قابل فراموش ہے کہ انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں اور مبارکپور میں تاریخی مناظرہ کیا۔ کہ جب سن 2000 میں انکی وفات ہوئی تو جہاں غدیریوں نے غم منایا وہیں سقیفائیوں نے خوشی منائی۔
اسی طرح ایک اہم نام حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مجتبی علی خان ادیب الہندی طاب مثواہ کا ہے کہ جب ندوۃ العلماء کے سربراہ مولانا سید ابوالحسن حسنی علی میاں ندوی نے "المرتضی” نامی کتاب لکھ کر حق و باطل کو خلط کرنے کی کوشش کی تو مولانا ادیب الہندی مرحوم نے "الامام” لکھ کر اس کا علمی تحقیقی جواب دیا۔




