4 ربیع الاول؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی غارِ ثور سے مدینۂ منورہ کی جانب روانگی

رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت، تاریخِ اسلام کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے، جو اسلام کی توسیع اور اسلامی معاشرے کے قیام میں ایک عظیم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ بعثت کے 13ویں سال اور ہجری تقویم کے مطابق 1 ہجری میں پیش آیا۔ ہجرت کا فیصلہ ہونے کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ابوبکر بن ابی قحافہ کے ہمراہ غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوئے اور وہاں 3 دن قیام کے بعد مدینۂ منورہ کی جانب روانہ ہوئے۔ یہ واقعہ نہ صرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے ایمان، توکل اور خدا پر اعتماد کی روشن مثال ہے، بلکہ مدینہ میں اسلامی معاشرے کے قیام کا نقطۂ آغاز بھی ثابت ہوا۔
غارِ ثور میں قیام
مکۂ مکرمہ سے روانگی کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر بن ابی قحافہ نے مکہ کے جنوب میں واقع غارِ ثور میں پناہ لی۔ یہ غار جبلِ ثور کی ڈھلوان پر واقع تھا اور مشرکینِ مکہ کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لئے ایک محفوظ مقام تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غار میں 3 دن قیام فرمایا۔ اس دوران امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام مکۂ مکرمہ میں موجود رہے تاکہ لوگوں کی امانتیں ان کے اصل مالکان تک پہنچا دیں۔
بعض تاریخی مصادر میں غارِ ثور میں قیام کی مدت 6 دن بھی بیان ہوئی ہے، تاہم 3 دن قیام کی روایت زیادہ مشہور ہے۔ماخذ: بحار الأنوار، جلد 19، صفحہ 63
مدینۂ منورہ کی جانب روانگی
چوتھی رات عبداللہ بن اُرَیقِط، جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے قابلِ اعتماد تھے، 3 اونٹوں کے ساتھ غارِ ثور کے پاس پہنچے تاکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ہم سفر کو مدینۂ منورہ کی جانب رہنمائی فراہم کریں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور ابوبکر بن ابی قحافہ غار سے باہر تشریف لائے اور اونٹوں پر سوار ہو کر مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔ انہوں نے مکہ کے نچلے حصے سے گزر کر ساحلی راستہ اختیار کیا۔ سفر کے دوران انہیں مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سراقہ بن مالک کا تعاقب بھی شامل تھا۔ روایت کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں سراقہ کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، جس کے بعد اس نے تعاقب سے دست برداری اختیار کرلی۔ماخذ: الطبقات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 179
مدینۂ منورہ میں ورود
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ 12 ربیع الاول، بعثت کے 13ویں سال مدینۂ منورہ میں داخل ہوئے۔ آپ کی آمد پر اہلِ مدینہ نے نہایت گرم جوشی اور محبت کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔ آپ کی آمد نے تاریخِ اسلام میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی مدینہ کی جانب ہجرت نے نہ صرف آپ اور آپ کے اصحاب کو مشرکینِ مکہ کے ظلم و ستم سے نجات دلائی، بلکہ مدینہ میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیاد بھی فراہم کی، جس کے نتیجے میں اسلام پورے جزیرۂ عرب میں تیزی سے پھیلنے لگا۔
واقعۂ ہجرت کی اہمیت
ہجرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ تاریخِ اسلام کے ان عظیم واقعات میں سے ہے جس نے اسلام کے مستقبل کا رخ متعین کردیا۔ یہ واقعہ ایمان، استقامت، تدبیر، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا حسین نمونہ ہے۔
ہجرت نے ایک طرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور مسلمانوں کو مکۂ مکرمہ کے مسلسل ظلم و ستم سے نجات دلائی، تو دوسری طرف مدینۂ منورہ میں ایک منظم اسلامی معاشرے اور حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اسی لئے ہجرت کو اسلامی تاریخ میں ایک نئے عہد کے آغاز کی حیثیت حاصل ہوئی اور بعد میں اسلامی کلینڈر کی بنیاد بھی اسی واقعہ کو قرار دیا گیا۔




