پهلی ربیع الاول امام حسن عسکری علیہ السّلام کو معتمد عباسی کے ہاتھوں زہر دیا جانا

ربیع الاول 260 ہجری کی پہلی تاریخ کو تاریخِ تشیع میں ایک نہایت دردناک سانحہ پیش آیا۔ مسلمانوں کے گیارہویں پیشوا، امام حسن عسکری علیہ السلام کو عباسی خلیفہ معتمد کی جانب سے ایک سازش اور دشمنی کے تحت زہر دیا گیا۔
عباسی حکمران امام حسن عسکری علیہ السلام کی بڑھتی ہوئی روحانی مقبولیت اور امتِ مسلمہ، بالخصوص آپ کے پیروکاروں میں آپ کے گہرے اثر و رسوخ سے سخت خوف زدہ تھے۔ نیز آپ کے فرزندِ گرامی، حضرت امام مہدی موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت سے متعلق متعدد بشارتوں نے بھی عباسی حکومت کی تشویش میں اضافہ کر دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے سامرہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی اور آپ کو سخت نگرانی اور محاصرے میں رکھا۔
بالآخر عباسی خلافت نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی حق و ہدایت پر مبنی روشنگریوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے آپ کو جسمانی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور زہر دے کر آپ کو مسموم کر دیا۔
گیارہویں آفتابِ ہدایت کو زہر دیے جانے کے بعد شدید بیماری اور جسمانی تکالیف کا ایک کرب ناک دور شروع ہوا۔ آپؑ نے سات روز تک ان شدید اذیتوں کو برداشت کیا اور بالآخر 8 ربیع الاول کو دردناک انداز میں شہادت پائی۔
یہ المناک سانحہ آلِ رسول علیہم السلام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا؛ اسی کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کی غربت و مظلومیت کا ایک نیا دور شروع ہوا، حضرت ولیِ عصر امام مہدی ارواحنا فداہ نے منصبِ امامت سنبھالا اور شیعیانِ اہلِ بیت علیہم السلام غیبت کے پُرآزمائش دور میں داخل ہوئے۔




