انسان اگر ایمان کی نشانیوں کے طور پر بیان کئے گئے امور میں سے کسی ایک کو بھی جان بوجھ کر انجام نہ دے تو اس کا ایمان ناقص ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
انسان اگر ایمان کی نشانیوں کے طور پر بیان کئے گئے امور میں سے کسی ایک کو بھی جان بوجھ کر انجام نہ دے تو اس کا ایمان ناقص ہے: : آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی اجلاس جمعرات، 23 صفر 1448 ہجری کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی گزشتہ مجالس کی طرح معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی معروف حدیث میں ایمان کی نشانیوں کے طور پر بیان کئے گئے امور میں سے کسی ایک کو ترک کرنے کے بارے میں فرمایا: اگر انسان ان میں سے کسی بھی عمل کو جان بوجھ کر اور بغیر کسی عذر کے انجام نہ دے تو اس کا ایمان ناقص ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: مثلاً اگر انسان صبح، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھتا ہے، لیکن ان کی نوافل ادا نہیں کرتا تو اس کا ایمان ناقص ہے۔ اسی طرح اگر وہ نمازِ ظہر اور نمازِ عصر میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ کو بلند آواز سے نہ پڑھ کر آہستہ پڑھے تو اس کی نماز باطل نہیں ہے، لیکن اس کا ایمان ناقص ہے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: اسی طرح اگر انسان امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین میں شرکت کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور بغیر کسی عذر کے زیارتِ اربعین کے لئے نہ جائے تو اس کا ایمان ناقص ہے۔




