تاریخ اسلام

24 صفر 11 ہجری کے المناک واقعہ ؛ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی وصیت تحریر ہونے میں رکاوٹ اور بارگاہِ نبوت میں گستاخی

24 صفر 11 ہجری قمری، صدرِ اسلام کی تاریخ کے نہایت افسوسناک اور حساس واقعات میں سے ایک کی یاد دلاتا ہے۔

اسی دن، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بابرکت حیات کے آخری ایام میں امت کی دائمی ہدایت اور مسلمانوں کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے لئے دوات اور قلم طلب فرمایا تاکہ ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن تحریر امت کے لیے یادگار چھوڑ جائیں۔

معتبر تاریخی اور روائی منابع کے مطابق اس درخواست کی عمر بن خطاب نے سخت مخالفت کی اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں نعوذ باللہ ہذیان اور بیماری کی نسبت دی۔ اس نے کہا: "إنَّ الرَّجُلَ لَیَهْجُرُ” یعنی: "یہ شخص (نعوذ باللہ) ہذیان کہہ رہے ہیں!”۔ اس طرح وہ اس اہم دستاویز کی تحریر میں رکاوٹ بن گیا۔

تاریخی مصادر اور فریقین کی حدیثی کتب اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس کھلی جسارت کے نتیجے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اختلاف اور شور و غل پیدا ہوگیا، یہاں تک کہ آپؐ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے حاضرین کو اپنے پاس سے اٹھ جانے کا حکم دیا۔

یہ ایک نہایت دردناک واقعہ تھا جسے اکابرِ دین نے امت کے ایک واضح اور تحریری ذریعۂ ہدایت سے محروم رہ جانے کا اہم موڑ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button