ام المومنین ام ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا

ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا، جنہیں اُمّ ابراہیم کی مبارک کنیت سے یاد کیا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کی ان عظیم اور باوقار خواتین میں شمار ہوتی ہیں جنہیں رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی زوجیت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ہونے کا شرف، اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت و احترام نصیب ہوا۔ آپ کا تعلق مصر کے معزز قبطی خاندان سے تھا۔ 7 ہجری میں مصر کے حاکم مقوقس نے آپ کو دیگر تحائف کے ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمتِ اقدس میں روانہ کیا۔ مدینہ منورہ کی طرف سفر کے دوران آپ نے حق کو پہچان کر اسلام قبول کیا اور مدینہ پہنچنے کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے آپ کو اپنی زوجیت کے شرف سے سرفراز فرمایا۔
حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا اپنی پاک دامنی، حسنِ اخلاق، عفت، عبادت گزاری، حلم اور وقار کی بنا پر ازواجِ رسول میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خصوصی محبت و شفقت نے بعض ازواج میں حسد کو جنم دیا، جس کے نتیجہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کے بارے میں متعدد مفسرین نے سورۂ تحریم کی ابتدائی آیات کو نازل شدہ قرار دیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کو تسلی دیتے ہوئے ازواج کی رضا کی خاطر اپنی حلال کردہ چیز کو اپنے اوپر حرام نہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔
8 ہجری میں حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کے بطنِ مبارک سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی، جس نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے گھرانے کو مسرت و شادمانی سے بھر دیا۔ اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصال کم سنی ہی میں ہو گیا، لیکن ان کی ولادت نے حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے "اُمّ ابراہیم” کے معزز لقب سے سرفراز کر دیا۔
بعد ازاں آپ کی پاک دامنی پر ایک ناروا الزام لگایا گیا، مگر حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی منصفانہ تحقیق نے اس بہتان کو ہمیشہ کے لئے باطل ثابت کر دیا۔ شیعہ مفسرین کے نزدیک سورۂ نور کی آیاتِ افک اسی واقعہ کے تناظر میں نازل ہوئیں، جبکہ اہلِ سنت کی اکثریت انہیں عائشہ سے متعلق واقعۂ افک سے مربوط قرار دیتی ہے۔ تاہم دونوں مکاتبِ فکر اس حقیقت پر متفق ہیں کہ حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا ایک پاکیزہ، باعفت اور بلند کردار خاتون تھیں۔
تاریخی شواہد اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ کے لئے حجاب کے احکام نافذ تھے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اہلِ مصر سے اپنے دامادی کے تعلق کا اظہار فرمایا، اور آپ کے وصال کے بعد حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا بھی دیگر ازواجِ مطہرات کی طرح ہمیشہ کے لئے احترام و حرمت کے مقام پر فائز رہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے وصال کے بعد حضرت ماریہ سلام اللہ علیہا نے زہد، عبادت اور خاموشی کے ساتھ اپنی باقی ماندہ زندگی بسر کی۔ محرم الحرام 16 ہجری میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں اور جنت البقیع میں آسودۂ خاک ہوئیں، جہاں آپ کا مزار اہلِ ایمان کے لئے تاریخِ اسلام کے ایک درخشاں باب کی یاد دلاتا ہے۔
حضرت ماریہ قبطیہ سلام اللہ علیہا کی حیاتِ مبارکہ صبر، عفت، وفاداری، اخلاص، تقویٰ اور رضائے الٰہی کی جستجو کا حسین نمونہ ہے۔ آپ نے خاموشی، استقامت اور کردار کی پاکیزگی کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی قربت کا حقیقی معیار نسب، قومیت یا وطن نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص اور کردار کی عظمت ہے۔ اسی لئے آپ کا مبارک تذکرہ اسلامی تاریخ میں عزت، احترام اور فضیلت کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا اور اہلِ ایمان، خصوصاً خواتینِ اسلام، کے لئے تا ابد مشعلِ راہ بنا رہے گا۔




