زیارتِ اربعین کی بے حرمتی اور کربلا میں متنازع اجتماعات پر مذہبی شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل

بعثۂ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے اراکین کا "لبیک یا حسین” کے نعروں سے بھرپور جواب
ایام اربعینِ حسینی میں شہرِ مقدس کربلا میں بعض ایسے واقعات اور تفرقہ انگیز رویّے دیکھنے میں آئے جنہوں نے زائرین، عزاداروں اور اہلِ ایمان میں شدید غم و غصے اور احتجاج کی لہر دوڑا دی۔
بعض گروہوں اور مبینہ طور پر مشتعل ایرانی عناصر کی جانب سے بعض سیاسی شخصیات کے حق میں نعرے بازی اور اس عظیم روحانی زیارت کے معنوی پیغام کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش پر عزادارانِ حسینی اور خدامِ حرم نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
ان حرکات کے جواب میں مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے بعثہ کے اراکین نے بعثہ کے دفتر کے سامنے ایک پُرجوش اجتماع منعقد کیا اور "لبیک یا حسین” کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے شعائرِ حسینی کی اصالت، حرمت اور تحفظ پر زور دیا۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ان اشتعال انگیز اقدامات پر مذہبی شخصیات، عراقی قبائل اور ایران، عراق سمیت مختلف ممالک کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی وسیع پیمانے پر ردِعمل سامنے آیا۔
تجزیہ کاروں اور صارفین نے اربعین کی زیارت کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور "لبیک یا حسین” کی جگہ عارضی سیاسی نعروں کو فروغ دینے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مصنوعی جذبات، سیاسی انتقام اور شیعوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔
احتجاج کرنے والوں نے بعض تفرقہ انگیز گروہوں اور نام نہاد ذاکروں اور مداحوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ زیارتِ اربعین کے روحانی ماحول کو خراب کرنے، مرجعیت کی توہین اور شہرِ مقدس کربلا کے تقدس کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔




