تاریخ اسلام

8 صفر؛ یوم وفات حضرت سلمان محمدی

جستجوئے حق سے "سلمان منا اہل البیت” تک

اسلامی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کسی ایک قوم، نسل یا جغرافیہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے کردار، اخلاص اور حق شناسی کے باعث پوری انسانیت کے لیے مینارۂ ہدایت بن جاتی ہیں۔ حضرت سلمان فارسی انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ہیں، جن کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جو انسان اخلاص، صبر اور استقامت کے ساتھ حق کی تلاش میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی خاص ہدایت، قرب اور عزت سے نوازتا ہے۔

8 صفر حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے؛ اس عظیم صحابی کی یاد، جسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا منفرد اعزاز عطا فرمایا جو تاریخِ اسلام میں اپنی مثال آپ ہے: "سلمان منا أهل البيت”۔ یہ صرف ایک فضیلت کا اعلان نہیں، بلکہ ایمان، معرفت، اخلاص اور ولایت کی بلند ترین سند ہے۔

حضرت سلمان فارسی کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو جستجوئے حق ہے۔ آپ نے آبائی روایات پر اکتفا کرنے کے بجائے حقیقت کی تلاش میں گھر، خاندان، وطن، آزادی اور آسائش تک قربان کر دی۔ اصفہان کی سرزمین سے شروع ہونے والا یہ روحانی سفر شام، موصل اور عموریہ سے گزرتا ہوا مدینہ منورہ پہنچا۔ یہ محض جغرافیائی سفر نہ تھا بلکہ روح کی تکمیل اور معرفتِ الٰہی کی منزلوں کی جانب مسلسل پیش قدمی تھی۔

ہر راہب نے آپ کو اپنے بعد آنے والے راہب کی طرف رہنمائی کی، یہاں تک کہ آخری راہب نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ظہور کی بشارت دی۔ مدینہ پہنچ کر حضرت سلمان نے وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں جن کا ذکر سابقہ آسمانی کتابوں میں موجود تھا؛ رسولِ اکرم صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور آپ کے دونوں مبارک کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت موجود تھی۔ یہ نشانیاں دیکھ کر حضرت سلمان بے اختیار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے قدموں میں گر پڑے اور اسلام قبول کر لیا۔ یوں برسوں کی جستجو اپنے حقیقی انجام کو پہنچی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد بھی حضرت سلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے، مگر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کی آزادی کا انتظام فرمایا۔ یہ واقعہ اسلام کے اس آفاقی پیغام کو نمایاں کرتا ہے کہ انسان کو ہر قسم کی جسمانی، فکری اور روحانی غلامی سے نجات دلانا دینِ اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔

غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان کی بصیرت نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ دشمن کے شدید محاصرے کے وقت آپ نے ایرانی عسکری حکمتِ عملی کے مطابق مدینہ کے گرد خندق کھودنے کی تجویز پیش کی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے قبول فرمایا۔ اس سے اسلام کی آفاقیت نمایاں ہوتی ہے کہ وہ مفید علم، تجربے اور حکمت کو، خواہ وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، خوش دلی سے قبول کرتا ہے۔

اسی موقع پر مہاجرین اور انصار دونوں حضرت سلمان کو اپنی جماعت سے منسوب کرنے پر فخر محسوس کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تاریخی اور لازوال جملہ ارشاد فرمایا: "سلمان منا أهل البيت” (سلمان ہم اہلِ بیت میں سے ہیں۔)

یہ اعلان حضرت سلمان علیہ السلام کے روحانی مقام، اخلاص، ایمان اور اہلِ بیت علیہم السلام سے غیر معمولی قرب کا واضح اظہار ہے۔ اس سے یہ ابدی حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں فضیلت کا معیار نہ نسل ہے، نہ زبان اور نہ قومیت؛ بلکہ ایمان، تقویٰ اور وفاداری ہے۔

شیعہ مکتبِ فکر میں حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خاص اصحاب، رازداروں اور مخلص ترین شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بھی آپ نے ہر حال میں ولایتِ علیؑ کا ساتھ دیا اور دنیاوی مصلحتوں پر حق کو ترجیح دی۔ اسی لیے ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے آپ کو ایمان، معرفت اور وفاداری کا اعلیٰ نمونہ قرار دیا ہے۔

حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی گورنری بھی اسلامی طرزِ حکمرانی کا درخشاں نمونہ تھی۔ مدائن جیسے عظیم شہر کے حاکم ہونے کے باوجود نہ آپ نے شاہانہ رہائش اختیار کی، نہ بیت المال کو ذاتی منفعت کا ذریعہ بنایا۔ آپ اپنی ضروریات اپنی محنت سے پوری کرتے اور سرکاری وسائل کو عوام کی خدمت کے لیے امانت سمجھتے تھے۔ سادگی، عدل، دیانت اور عوام دوستی آپ کی حکومت کے نمایاں اوصاف تھے، جو آج بھی اسلامی حکمرانی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حضرت سلمان علیہ السلام کو علم کا بے کراں سمندر، اولین و آخرین کے علوم کا حامل اور لقمان حکیم کی مانند دانا قرار دیا۔ یہ تعارف اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ حضرت سلمانؑ نے صرف ظاہری اسلام ہی قبول نہیں کیا تھا بلکہ معرفتِ الٰہی، اخلاص اور ولایت کے اعلیٰ مدارج بھی طے کئے تھے۔

روایات کے مطابق حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کو اپنے وقتِ وفات کا علم تھا۔ آپ نے اپنے آپ کو خوشبو سے معطر کیا اور اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے آمادہ ہو گئے۔ متعدد روایات میں مذکور ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام مدینہ سے مدائن تشریف لائے، آپ کی تجہیز و تکفین، نمازِ جنازہ اور تدفین کے فرائض انجام دیے۔ اگرچہ اس واقعے کی تفصیلات مختلف تاریخی مصادر میں مختلف انداز سے نقل ہوئی ہیں، تاہم حضرت سلمان علیہ السلام کا اہلِ بیت علیہم السلام سے غیر معمولی تعلق تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم حقیقت ہے۔

آج کا دور مادیت، تعصب اور فکری انتشار کا دور ہے۔ ایسے میں حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی تلاش، علم کی جستجو، اخلاص، عدل، خدمتِ خلق اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہے کہ ایمان کی بنیاد رنگ، نسل، زبان یا قومیت نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور محبتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہلِ بیت علیہم السلام ہے۔

حضرت سلمان فارسی علیہ السلام رہتی دنیا تک اہلِ حق، اہلِ علم، اہلِ عرفان اور اہلِ ولایت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ ان کی سیرت ہر دور کے انسان کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ جو شخص خلوصِ نیت کے ساتھ خدا کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے ایسی عزت عطا فرماتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اپنے اہلِ بیت سے نسبت عطا فرماتے ہیں۔

سلام ہو سلمانِ محمدیؑ پر؛ اس عظیم مردِ حق پر، جس نے اپنی پوری زندگی حق کی جستجو، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اطاعت، ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے بے مثال وفاداری اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے وقف کر دی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button