سندھ میں 40 لاکھ سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر، صنفی عدم مساوات برقرار
سندھ میں 40 لاکھ سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر، صنفی عدم مساوات برقرار
کراچی: سندھ کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ 2024ء کے مطابق صوبہ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 47 فیصد اور دیہی سندھ میں صرف 27.52 فیصد ہے۔ سندھ پولیس میں خواتین کی نمائندگی 4.34 فیصد، ججز میں 13.7 فیصد اور پراسیکیوٹرز میں 18.3 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کی ملازمتوں اور افرادی قوت میں شرکت میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم تعلیم، روزگار، انصاف اور سیاسی نمائندگی میں صنفی فرق اب بھی نمایاں ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو اس فرق کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان میں خواتین کی تعلیم اور مساوی مواقع کے دعووں کے باوجود لاکھوں بچیوں کا اسکول سے باہر ہونا حکومتی تعلیمی پالیسیوں اور وسائل کی تقسیم پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ صرف رپورٹس اور اعلانات کافی نہیں؛ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اعداد و شمار کی روشنی میں عملی اور قابلِ پیمائش اقدامات کرنا ہوں گے۔




