فرانس میں نوجوان لڑکیوں میں حجاب کے رجحان میں نمایاں اضافہ

دینی شناخت پر فخر اور عوامی مقامات پر تحفظ کا احساس
فرانس میں مسلمان خواتین کی نئی نسل میں اسلامی حجاب کے انتخاب کا بڑھتا ہوا رجحان، دین کے تئیں نسلی نقطہ نظر میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
تحقیقات اس رجحان کو محض موروثی روایت یا خاندانی دباؤ سے آگے بڑھ کر، دینی شناخت پر فخر اور سماجی تحفظ کے احساس سے جوڑتی ہیں۔
پچھلی دو دہائیوں کے دوران فرانس میں نوجوان مسلمان لڑکیوں اور خواتین میں حجاب اختیار کرنے کی شرح میں قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ سماجی مظہر ظاہر کرتا ہے کہ فرانس کے مسلم معاشرے کی نئی نسل کا دین اور عوامی زندگی میں اس کی موجودگی کے بارے میں نظریہ پچھلی نسلوں سے مختلف ہے۔
عام تاثر کے برعکس کہ یہ فیصلہ صرف خاندانی روایات کا تسلسل ہے، عمرانیاتی تجزیے اس رجحان کے زیادہ پیچیدہ اور شناخت سے جڑے پہلوؤں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی سروے ادارہ "ایفوپ” (Ifop) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 میں فرانس میں 18 سے 24 سال کی 45 فیصد مسلمان خواتین نے حجاب پہننے کا بتایا ہے۔
جبکہ 2003 میں یہ شرح صرف 16 فیصد تھی۔ اس کے برعکس، اسی مدت میں 50 سال سے زائد عمر کی مسلمان خواتین میں حجاب پہننے کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی ہے، جو نسلوں کے درمیان واضح طرز عمل کی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہر عمرانیات اور اس شعبہ کے محقق طارق یلدیز اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے حجاب اپنی دینی وابستگی کے اظہار اور اپنی دینی شناخت پر فخر کا ذریعہ بن گیا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق 38 فیصد شرکاء نے کہا کہ حجاب انہیں اپنی دینی وابستگی کے اظہار میں مدد دیتا ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس فیصلے میں خاندانی دباؤ کا براہ راست کردار بہت کم ہے اور 2 فیصد سے بھی کم خواتین نے اپنے انتخاب کی وجہ خاندانی مجبوری کو قرار دیا ہے۔
دوسری طرف، حجاب کے سماجی فوائد بھی اس فیصلے پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر 44 فیصد خواتین نے کہا کہ ان کا مقصد عوامی مقامات پر غیر ضروری توجہ سے بچنا ہے، جبکہ 42 فیصد نے زیادہ تحفظ کے احساس کو وجہ بتایا ہے۔
اسی طرح سوشل میڈیا اور آن لائن برادریوں کے وجود نے فرانس کی نئی مسلم نسل کے لیے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ زیادہ شعور اور جدید ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنے لیے اقدار اور اجتماعی تعلق کا ایک نیا دائرہ تشکیل دے سکے۔




