عالمی یومِ جمہوریت کی مناسبت سے عالمی تنظیم فری مسلم کا بیان

15 ستمبر، عالمی یومِ جمہوریت کے موقع پر انصاف کے معیارات کو مضبوط بنانے، جائز آزادیوں کے تحفظ اور معاشروں کے نظم و نسق میں عوامی شرکت کو فروغ دینے کے لئے بین الاقوامی مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس مناسبت سے سول ادارے حکومتوں کی جانب سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی پابندی اور اجارہ دارانہ رویوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارہ "اخبارِ شیعہ” کی رپورٹ کے مطابق، عالمی تنظیم برائے نفیِ تشدد (مسلمانِ آزاد) نے بھی اسی مناسبت سے ایک اعلامیہ جاری کر کے حکومتوں اور سیاسی ڈھانچوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مساوات، قانون کی حکمرانی اور عوام کی مرضی کے احترام کی اقدار کو ترجیح دیں۔
تنظیم نے اعلان کیا کہ حقیقی جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل نظام درکار ہے جس میں آزادیِ اظہار، انسانی وقار کا تحفظ اور مذہبی یا نسلی وابستگی سے قطع نظر تمام افراد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی شامل ہو۔
مسلمانِ آزاد نے اس اعلامیہ میں تاکید کی کہ منصفانہ اصولوں کی عدم موجودگی اور اقتدار میں استبداد ہی دنیا کے مختلف خطوں میں جنگوں، غربت اور بے چینی کی بنیادی وجہ ہے۔
عالمی تنظیم برائے نفیِ تشدد نے موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا راستہ مکالمے کی ثقافت کا فروغ، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور پرامن اجتماعات کے لیے فضا کو کشادہ کرنا قرار دیا، اور تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی موجودہ پالیسیوں پر سنجیدہ نظرِ ثانی کریں، عوام کے جائز مطالبات کا جواب دیں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ، مستحکم اور منصفانہ مستقبل کی راہ ہموار کریں۔




