اسلامی دنیا

خاندان کی بنیاد مضبوط بنانے میں جذباتی سرمایہ کا اہم کردار

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گھر کے ماحول میں نشاط اور باہمی قربت کی بحالی کے عملی طریقے

خاندانی ماحول میں خوشی اور شادابی کوئی اتفاقی امر نہیں، بلکہ یہ جذباتی، باہمی تعلقات اور اخلاقی سرمایہ کی پہچان اور اس کے درست استعمال کا نتیجہ ہے۔ یہی عوامل گھر کے ماحول کو ایک محفوظ، پُرجوش اور پُرسکون جگہ میں تبدیل کر سکتے ہیں، جہاں خاندان کے افراد کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کی بہتر نشوونما ہو۔

اسی موضوع پر اپنے ساتھی کی رپورٹ کی جانب آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں:

خاندان معاشرے کا بنیادی ترین ادارہ ہے اور افراد کی شخصیت سازی، ذہنی و نفسیاتی صحت اور معیارِ زندگی کی تشکیل میں اس کا فیصلہ کن کردار ہے۔

گھر کے ماحول میں خوشی اور نشاط کو برقرار رکھنے کے لیے نفسیاتی عوامل سے آگاہی اور روزمرہ تعلقات میں عملی طور پر مؤثر طریقوں کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

خاندانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ باہمی قربت، گفتگو، محبت کا اظہار اور ایک دوسرے کو سمجھنا خاندان میں خوشی اور شادابی پیدا کرنے والے اہم ترین جذباتی سرمایہ میں شمار ہوتے ہیں۔

جب گھر کے افراد کے درمیان جذباتی تعلق کمزور پڑنے لگے تو ان عوامل کی درست شناخت اور انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش، گھر کے ماحول میں محبت، گرمی اور پُرجوش زندگی واپس لانے کی جانب پہلا مؤثر قدم ثابت ہوتی ہے۔

سماجی مطالعات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خوشگوار اور پُرسکون خاندان افراد کے لیے صحت مند رویوں کی تشکیل، مشکلات کے مقابلے میں زیادہ قوتِ برداشت اور معاشرے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لئے مناسب ماحول فراہم کرتے ہیں۔

اس مقصد کے حصول کے لئے خاندان کے افراد کو ایک دوسرے سے گفتگو کے لیے مشترکہ مواقع فراہم کرنا، غیر ضروری طور پر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو کم کرنا، ایک دوسرے کی مثبت خوبیوں پر توجہ دینا اور ملامت و سرزنش کے بجائے ہمدردی اور احساسِ باہمی کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔

خاندان کے افراد کی جذباتی صحت پر توجہ دینا کوئی ثانوی مسئلہ نہیں، بلکہ خاندانی تعلقات کے معیار کو بہتر بنانا براہِ راست سماجی مسائل میں کمی اور زندگی سے اطمینان کے احساس میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

یہ علمی اور نفسیاتی نقطۂ نظر دینِ اسلام کی جامع تعلیمات اور اہلِ بیت علیہم السلام کی گراں قدر سیرت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ قرآن کریم میں خاندان کے قیام کا بنیادی مقصد سکون، محبت اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۂ روم کی آیت 21 میں فرماتا ہے: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً” ’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے ہی لئے تم میں سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی۔‘‘

اس آیتِ مبارکہ میں بیان کردہ مودّت اور رحمت دراصل خوشی، باہمی قربت اور ازدواجی زندگی کے استحکام کے بنیادی سرچشمے ہیں۔

اس کے علاوہ اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی گھر کے ماحول میں محبت کے اظہار، خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر کی جانب سے اپنی اہلیہ سے محبت کے اظہار کو ایسا عمل قرار دیا ہے جو دل میں دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے خوش اخلاقی اور گھر کے ماحول میں محبت و مہربانی کو رزق میں اضافے اور عمر میں برکت کا سبب قرار دیا ہے۔

ماہرین کے عملی و نفسیاتی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے درمیان یہ ہم آہنگی واضح کرتی ہے کہ محبت، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی و مدارا ہی ایک ایسے گھر کی تعمیر کی بنیادی کنجی ہیں جو خوشی، نشاط، محبت اور سکون سے بھرپور ہو۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button