مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا کی نئی لہر؛ مساجد پر حملوں اور ساختیاتی دباؤ سے مذہبی دشمنی کے سیاسی ہتھیار بننے تک

عبادت گاہوں پر حملوں اور ان کی بے حرمتی میں اضافے، مسلم شہریوں پر ساختیاتی دباؤ میں شدت اور مغربی سیاست دانوں کی جانب سے اسلام مخالف بیانیے کو سرکاری سیاسی گفتگو کا حصہ بنانے نے امریکہ اور یورپ میں مذہبی اقلیتوں کی انسانی حقوق کی صورتِ حال کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلاموفوبیا کا رجحان مغربی معاشروں کے حاشیہ سے نکل کر سیاسی اور میڈیا کی مسابقت کے مرکز تک پہنچ گیا ہے، جس سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور سلامتی کو بے مثال خطرات کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:
مسلسل جائزوں اور سماجیاتی تجزیوں کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور پُرتشدد رویوں کی ایک نئی لہر تشکیل پا رہی ہے۔ امریکہ کی ریاست اوہائیو میں وِسٹ وُڈ اسلامی مرکز پر دوبارہ ہونے والا حملہ بھی اسی وسیع تر رجحان کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس، یہ جبری اقدامات محض بعض افراد کی خودسرانہ کارروائیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ سیاسی مہم سازی، مسلمانوں کی شناخت کو مہاجرت کے بحران کے ساتھ جوڑنے اور مذہبی نفرت انگیزی کے دوبارہ فروغ جیسے عوامل سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
برطانوی روزنامہ گارجین کے مطابق، شہری حقوق کی تنظیموں، جن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) بھی شامل ہے، نے امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کی خلاف ورزی اور امتیازی سلوک سے متعلق 8,600 سے زائد شکایات درج کئے جانے کی اطلاع دی ہے، جو اس ادارہ کی تاریخ میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال صرف تین ماہ کے دوران مساجد اور عبادت گاہوں کے خلاف توہین، دھمکی اور آتش زنی کے 17 سنگین واقعات درج کئے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اسلامی مراکز پر حملوں میں 183 فیصد اضافہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کی ایجنسی برائے بنیادی حقوق کے اعداد و شمار بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی اور امتیازی سلوک تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
صورتِ حال یہ ہے کہ یورپ میں ہر دو مسلمانوں میں سے ایک کو روزگار، رہائش اور سماجی رویوں کے میدان میں کھلے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یورپی نگران اداروں کے اعداد و شمار سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اسلاموفوبیا میں بھی غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، دائیں بازو کی عوام پسند تحریکوں کی انتہاپسندی، نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سرکاری اداروں کی دانستہ خاموشی اور اسلام مخالف رویوں نے مسلمانوں اور مغربی سکیورٹی اداروں کے درمیان گہری بداعتمادی پیدا کر دی ہے۔
مغرب کے بعض اعلیٰ سطحی سیاست دانوں کی انتخابی تقاریر میں اسلام مخالف بیانیہ کا شامل ہونا اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ اسلاموفوبیا سیاسی حمایت حاصل کرنے اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو دبانے کے ایک آلے میں تبدیل ہو رہا ہے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اسلامی معاشروں کی جانب سے سنجیدہ، مدبرانہ اور مؤثر موقف اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔



