سوئٹزرلینڈ کی ریاست زیورخ کے اسکولوں میں حجاب پر امتیازی پابندی کی تجویز منظور

دائیں بازو کی جماعتوں کا مذہبی آزادی اور مسلمان خواتین کے حقوق سے تصادم
یورپ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف پابندیوں پر مبنی قانون سازی کی نئی لہر کے تسلسل میں، سوئٹزرلینڈ کی ریاست زیورخ (Zurich) کی پارلیمنٹ نے ایک ایسی تجویز منظور کی ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں میں مسلمان اساتذہ اور طالبات کے لئے حجاب پہننے کی آزادی محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دائیں بازو کی جماعتوں کے دباؤ میں ہونے والے اس فیصلے نے امتیازی رویوں کے فروغ اور مسلمان شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کئے جانے کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
جرمن اخبار "دی ولت” کے مطابق، زیورخ کی پارلیمنٹ نے دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی (SVP) کی جانب سے پیش کی گئی اسکولوں میں حجاب پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی۔
یہ تجویز 87 ووٹوں کے مقابلے میں 82 ووٹوں سے منظور ہوئی، تاہم اس کے حتمی نفاذ سے قبل آئندہ دو برس کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے قانونی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
مخالف سیاسی جماعتوں اور شہری حقوق کے علمبرداروں نے اس اقدام کو متنازع اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی مسلمان لڑکیوں کو معاشرے میں مزید تنہائی اور سماجی داغ کا شکار بنا سکتی ہے۔
مخالف جماعتوں اور حقوقِ مدنی کے کارکنوں نے مزید زور دیا کہ یہ تجویز مذہبی آزادی کے اصول اور سوئٹزرلینڈ کی وفاقی سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلوں سے متصادم ہے۔




