عراق

فقاہت، علم اور استعمار کے مقابل مزاحمت کا ایک روشن باب

8 ربیع الثانی؛ یوم وفات شیخ الشریعہ فتح اللہ اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

فقاہت، علم اور استعمار کے مقابل مزاحمت کا ایک روشن باب

تاریخِ نجف میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی صرف علمی حلقوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اپنے عہد کے اجتماعی اور سیاسی حالات پر بھی اثر چھوڑتی ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ الشریعہ فتح اللہ غروی اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انہی بزرگ علماء میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے فقہ و اصول کی تدریس کے ساتھ اپنے زمانے کے اہم اجتماعی مسائل میں بھی رہنمائی کا کردار ادا کیا۔

8 ربیع الثانی 1339ھ کو نجف اشرف میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تدفین حرمِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے صحن میں ہوئی۔ یہی نجف ان کی علمی زندگی کا مرکز بھی تھا اور وہیں سے ان کی آواز عراق کے سیاسی و اجتماعی حالات میں بھی سنائی دی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ فتح اللہ بن محمدجواد نمازی شیرازی اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ 1266ھ میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد نجف اشرف پہنچے اور اپنے دور کے ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا۔ فقہ و اصول میں مہارت حاصل کی اور بعد میں حوزہ علمیہ نجف کے عظیم علماء و فقہاء میں شمار ہونے لگے۔ ان کے درس سے متعدد علماء نے استفادہ کیا۔

ان کی علمی میراث میں فقہ، اصول، رجال، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم سے متعلق متعدد رسائل و تصانیف شامل ہیں۔ "إبانة المختار في إرث الزوجة”، "صيانة الإبانة عن وصمة الرطانة”، "إفاضة القدير في أحكام العصير”، "قاعدة الطهارة” اور "قاعدة لا ضرر” ان کے معروف علمی آثار میں شمار کئے جاتے ہیں۔

مگر شیخ الشریعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے علم کو اپنے زمانے کے حالات سے الگ نہیں کیا۔

استعمار کے مقابل ایک فقیہ

عراق پر برطانوی اثر و اقتدار کے دور میں نجف کے علماء نے ملکی خودمختاری اور عوام کے حقوق کے مسئلہ پر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ شیخ الشریعہ فتح اللہ اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس علمی و مذہبی قیادت کا حصہ تھے۔

ثورة العشرين، یعنی انقلابِ عشرین 1920ء کے دوران نجف اور عراق کے مختلف علاقوں میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت نے ایک منظم صورت اختیار کی۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے بعد شیخ الشریعہ اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس تحریک کے تسلسل اور اس کے اجتماعی نظم میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے لئے حوزہ صرف درس و تدریس کا مرکز نہیں تھا؛ حالاتِ زمانہ میں دینی رہنمائی اور اجتماعی ذمہ داری بھی علماء کے فرائض کا حصہ تھی۔ اسی لئے ان کی زندگی میں درس گاہ، فتویٰ اور اجتماعی جدوجہد ایک دوسرے سے جدا دکھائی نہیں دیتے۔

علم جب ذمہ داری بن جائے

شیخ الشریعہ اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ فقاہت صرف پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام نہیں؛ فقیہ اپنے عہد کے حالات، معاشرے کی ضرورتوں اور انسانوں کے حقوق سے بھی بے تعلق نہیں رہ سکتا۔

ان کی علمی شخصیت میں تحقیق تھی، ان کے قلم میں استدلال تھا اور ان کے اجتماعی کردار میں اپنے زمانے کے مسائل کا ادراک تھا۔

اسی لئے ان کا تذکرہ صرف ایک عظیم فقیہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایسے عالم کے طور پر بھی کیا جاتا ہے جس نے اپنے علمی منصب کو اجتماعی ذمہ داری سے جوڑنے کی کوشش کی۔

8 ربیع الثانی ہمیں شیخ الشریعہ فتح اللہ غروی اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کی یاد دلاتا ہے؛ ایک ایسے عالم کی یاد، جس کی زندگی اصفہان سے نجف تک علم کی جستجو، فقہ و اصول کی خدمت اور اپنے عہد کے اجتماعی حالات سے وابستگی سے عبارت رہی۔

ان کی وفات کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی علمی میراث اور عراق کی جدید تاریخ کے ایک اہم مرحلے میں ان کے کردار کا تذکرہ آج بھی باقی ہے۔

علم اگر زندگی سے جڑ جائے تو وہ صرف کتاب کا باب نہیں رہتا؛ وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

رحم اللہ الشیخ الشریعۃ فتح اللہ الغروی الاصفہانی، وأسکنہ الفسیح من جنانہ۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button