مصنوعی ذہانت کے استعمال میں جین زی سب سے آگے، مگر مستقبل کی ملازمتوں پر تشویش بھی زیادہ
مصنوعی ذہانت کے استعمال میں جین زی سب سے آگے، مگر مستقبل کی ملازمتوں پر تشویش بھی زیادہ
ایک نئی تحقیق کے مطابق جین زی نسل کے کارکن مصنوعی ذہانت کے آلات کے استعمال میں دیگر نسلوں سے آگے ہیں، تاہم وہ اس کے مستقبل میں روزگار اور اپنے پیشہ ورانہ مواقع پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے زیادہ فکرمند بھی ہیں۔
تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت سے ابتدائی سطح کی ملازمتیں زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ۴۰ سال سے زائد عمر کے تجربہ کار کارکن مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں اور اس کے فراہم کردہ نتائج میں غلطیوں کی نشاندہی بھی بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینئر سطح کی ملازمتوں میں اضافہ جبکہ ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال نوجوان کارکنوں میں اس خدشے کو بڑھا رہی ہے کہ جن ملازمتوں سے وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرتے، ان میں سے بعض مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے انجام دی جا سکتی ہیں۔




