اٹلی میں قانونی دباؤ اور عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ؛ مسلم برادریوں کا تعمیری مکالمہ اور مذہبی حقوق کے تحفظ پر زور
اٹلی میں قانونی دباؤ اور عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ؛ مسلم برادریوں کا تعمیری مکالمہ اور مذہبی حقوق کے تحفظ پر زور
اٹلی کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور نماز کے مراکز پر انتظامی کارروائیوں اور پابندیوں میں اضافے کے باعث مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ملک میں مقیم مسلمان اپنے اقتصادی اور سماجی کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے مکمل احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اطالوی اخبار "ایل گازتینو” کی رپورٹ کے مطابق، وینس شہر میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والی مسلم برادریوں کے نمائندے عبادت گاہوں کی بندش سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے ایک مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی غرض سے مشاورت کر رہے ہیں۔
مسلم برادریوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان مراکز کی بندش سے نمازیوں اور عبادت گزاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ایسے مقامات مقرر کرنا جو ان کی رہائش گاہوں سے بہت دور ہوں، عملی طور پر قابلِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور شہر کے انتظام و معاشرتی زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس لئے حکام کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور باہمی گفتوگو کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
دوسری جانب "نیویارک نیوز” کی رپورٹ کے مطابق، اٹلی کی حکمران جماعت لیگ نے مساجد کی نگرانی سخت کرنے، ان کے مالی ریکارڈ درج کرنے اور ائمۂ جماعت کی ایک قومی فہرست قائم کرنے کے لئے ایک بل پیش کیا ہے۔
اس مجوزہ قانون کے تحت وزارتِ داخلہ کو مذہبی مراکز کی نگرانی اور کنٹرول کے حوالے سے مزید اختیارات حاصل ہوں گے، جس کے باعث اٹلی میں مسلم برادریوں پر موجود دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔




