سیرتِ نبوی میں شہری حقوق کے تحفظ اور طبقاتی امتیازات کی نفی کا بہترین نمونہ

رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی عملی سیرت، انسانی کرامت کے انتظام و تحفظ اور شہریوں کی قدر و منزلت اور عزتِ نفس کی پاسداری کے حوالے سے ایک بے مثال نمونہ ہے۔ آپ نے نسل، سماجی طبقے یا دولت کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر انسانی حقوق کے احترام اور عدلِ اجتماعی کے قیام کی ایسی جامع راہ دکھائی جو آج کے معاشروں کے لئے بھی شایستہسالاری اور سماجی انصاف کے حصول میں مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اسی موضوع کو بیان کیا ہے، آئیے اسے ملاحظہ کرتے ہیں:
انسانی کرامت کا تحفظ اور انسانی اقدار و احترام کی پاسداری، رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی عملی سیرت کے نمایاں ترین پہلوؤں میں شمار ہوتی ہے۔
ایسے دور میں جب انسانی معاشرے طبقاتی نظام، نسل پرستی اور مختلف قسم کے امتیازی رویّوں میں مبتلا تھے، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے وحیِ الٰہی کی تعلیمات کی بنیاد پر مساوات، انسانی احترام اور عمومی حقوق کی پاسداری پر مبنی حکمرانی کا ایک نیا اور مثالی نظام قائم فرمایا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے کبھی انسانوں کو ان کی دولت، نسب یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر درجہ بندی نہیں فرمائی۔
آپ کے نزدیک انسان کی کرامت اور فضیلت کا معیار تقویٰ، ذاتی صلاحیتیں، شایستگی اور معاشرے کی خدمت تھا۔
اس خالص نبوی طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دور کے معاشرے کے تمام افراد، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم، نسل یا طبقے سے ہو، اپنی شناخت اور انسانی عزت و کرامت کا احساس کرنے لگے۔
شہری حقوق کی رعایت اور انسانی وسائل سے شایستہسالاری کے اصول کے تحت استفادہ، عصرِ حاضر کے معاشرے کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے۔
تعلیماتِ نبوی قوم پرستی، نسلی تفاخر اور مالی برتری کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ حقیقت آشکار کرتی ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اور نشوونما اسی وقت ممکن ہے جب انسان کی ذاتی عزت و کرامت کا تحفظ کیا جائے اور تمام افراد کے لئے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
درحقیقت، ان اقدار کو معاشرے میں راسخ کرنا، معاشروں کو گہرے اخلاقی بحرانوں اور سماجی انتشار سے نجات دلانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا یہ بے مثال انتظامی، اخلاقی اور انسانی نمونہ قرآنِ کریم کی نورانی آیات اور اہلِ بیت علیہم السلام کے گراں قدر فرامین میں اپنی بنیاد رکھتا ہے۔
قرآنِ کریم صراحت کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” ’’اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت و کرامت عطا کی ہے۔‘‘ یہ آیتِ کریمہ تمام بنی نوعِ انسان کی ذاتی اور فطری کرامت و بزرگی پر تاکید کرتی ہے۔
اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کی نورانی سیرت و تعلیمات میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ ’’انسان یا دین میں تمہارا بھائی ہے یا خلقت میں تمہارے جیسا ہے۔‘‘
لہٰذا انسانی سرمائے کا تحفظ، انسانی عزت و کرامت کی پاسداری اور عمومی حقوق کی رعایت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی معاشروں کے لیے ایک شرعی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اس ذمہ داری سے غفلت معاشرے کی بنیادوں کو کمزور اور اس کے اجتماعی نظام کو متزلزل کر دیتی ہے۔




