اگر کفار اپنی جگہ پُرامن رہیں اور مسلمانوں سے جنگ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو ان پر حملہ کرنا جائز نہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
اگر کفار اپنی جگہ پُرامن رہیں اور مسلمانوں سے جنگ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو ان پر حملہ کرنا جائز نہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست منعقد ہوئی۔
اس نشست میں گزشتہ نشستوں کی طرح معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے دور میں پیش آنے والی جنگوں کے حوالے سے آپ دونوں بزرگواروں کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کبھی بھی ابتدائی طور پر جہاد نہیں کیا، بلکہ ان کے زمانے میں ہونے والی تمام جنگیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی تمام جنگیں مدینہ کے اطراف میں ہوئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جنگ مکہ میں شروع نہیں ہوئی۔ اسی طرح فتحِ مکہ بھی ابتدائی جہاد نہیں تھا بلکہ وہ بھی دفاع کے طور پر انجام پایا تھا۔
معظم لہ نے مزید واضح فرمایا: ابتدائی جہاد اُس وقت کہا جائے گا جب کفار اپنی جگہ پُرامن بیٹھے ہوں اور مسلمانوں سے کسی قسم کی جنگ یا نزاع کا ارادہ نہ رکھتے ہوں، لیکن مسلمان بلاجواز اُن پر حملہ کردیں۔ ایسا طرزِ عمل نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں پیش آیا اور نہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور میں۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے تاکید فرمائی: اگر کفار اپنی جگہ پُرامن ہوں اور مسلمانوں سے جنگ یا نزاع کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف جنگ نہیں کی جاسکتی۔ البتہ اگر وہ مسلمانوں پر حملہ کریں تو ان کے مقابل دفاع کرنا جائز ہے۔




