خبریں

30 اگست عالمی یومِ لاپتہ

30 اگست عالمی یومِ لاپتہ

وہ کہاں ہے؟ — ایک ماں کی آنکھوں میں ٹھہرا ہوا سوال

30 اگست عالمی یومِ لاپتہ افراد اُن انسانوں کی یاد اور اُن کے خاندانوں کے درد کو اجاگر کرنے کا دن ہے، جو اغوا، جبری حراست، جنگ، سیاسی جبر یا دیگر حالات کے باعث اپنے پیاروں سے جدا ہوگئے اور برسوں گزرنے کے باوجود اُن کے بارے میں کوئی یقینی خبر سامنے نہیں آسکی۔ پاکستان، سعودی عرب، بحرین، عراق، یمن اور افغانستان سمیت مختلف ممالک میں لاپتہ افراد کا مسئلہ آج بھی متعدد خاندانوں کے لئے ایک مسلسل کرب اور طویل انتظار کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔

کسی انسان کا لاپتہ ہوجانا صرف ایک فرد کا غائب ہونا نہیں؛ اس کے ساتھ ایک ماں کی نیند، ایک بیوی کا سکون، ایک باپ کی امید اور بچوں کے بچپن کا ایک حصہ بھی کہیں کھو جاتا ہے۔ موت کم از کم آخری دیدار، سوگ اور تدفین کا موقع دیتی ہے، مگر گمشدگی انسان کو امید اور خوف کے درمیان معلق رکھتی ہے۔

شیعہ فکر اور کربلائی شعور میں مظلوم کی آواز بننا اور ظلم کے خلاف گواہی دینا بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے بعد خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی؛ حقیقت کو بیان کرنا اور مظلوم کی آواز کو زندہ رکھنا بھی ایک جدوجہد ہے۔

اس لئے 30 اگست محض یاد کا دن نہیں بلکہ حقیقت، انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کا دن ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے خاندان کو اپنے عزیز کے بارے میں سچ جاننے کا حق ملنا چاہیے، ہر گرفتار فرد کو قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے اور خفیہ حراست و جبری گمشدگی کے ہر واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

کیونکہ لاپتہ افراد محض اعداد و شمار نہیں؛ ہر عدد کے پیچھے ایک نام، ایک چہرہ، ایک گھر، ایک ماں اور ایک ایسا سوال ہوتا ہے جو برسوں سے جواب کا منتظر ہے کہ "وہ کہاں ہے؟”

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button