اسلامی دنیا

قزاقستان کے قدیم چٹانی پہاڑوں کے دل میں عبادت گاہ؛ زیرِ زمین مسجد "شاکپک آتا”

قزاقستان کے قدیم چٹانی پہاڑوں کے دل میں عبادت گاہ؛ زیرِ زمین مسجد "شاکپک آتا”

مغربی قزاقستان کے پراسرار خطے مانگیستائو میں واقع زیرِ زمین مسجد "شاکپک آتا” اسلامی دنیا کی منفرد مذہبی اور معماری یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ تاریخی مقام چونے کے پتھریلے پہاڑوں کو تراش کر بنایا گیا ہے اور اس خطے میں مسلمانوں کے صدیوں پرانے ایمان، زیارت اور روحانی روایات کی گواہی دیتا ہے۔ حالیہ عرصے میں اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے یونیسکو کے سامنے پیش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کی تفصیل بیان کی ہے، آئیے اسے دیکھتے ہیں:

مغربی قزاقستان کا تاریخی خطہ مانگیستائو ایک ایسا علاقہ ہے جہاں حیرت انگیز قدرتی مناظر، اسلامی آثار اور زیارت کی گہری ثقافت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

اس سرزمین میں سینکڑوں اولیاء اور مذہبی شخصیات کو عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہی مقدس مقامات میں غار نما تاریخی عبادت گاہ شاکپک آتا کو خاص مقام حاصل ہے۔

یہ قدیم عبادت گاہ مرکزی ہال کے گرد چار سمتوں میں پھیلے ہوئے متقاطع طرزِ تعمیر کی حامل ہے۔ صدیوں سے یہ مسلمانوں کے لئے دعا، اعتکاف اور حاجت طلب کرنے کا ایک مقدس مقام رہی ہے۔

قازقستان کے سرکاری خبررساں ادارہ کازینفورم (Kazinform) میں شائع ہونے والی تحقیقات اور رپورٹس کے مطابق، اس زیرِ زمین مسجد کی تعمیر کو نویں سے چودہویں صدی عیسوی کے درمیانی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔

خبررساں ادارہ کے مطابق مسجد کی چونے کی پتھر والی دیواروں پر عربی خط میں تقریباً 250 کتبے اور نقش و نگار موجود ہیں۔

ان کتبوں میں ایسے اشعار اور گہرے عرفانی مضامین شامل ہیں جو انسان کو موت کی یاد، دنیا کی ناپائیداری اور دنیاوی دولت و مال کی بے ثباتی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ دیواروں پر بار بار بنائے گئے انسانی ہاتھ کے نقش بھی دکھائی دیتے ہیں، جنہیں اس خطے کی صوفیانہ روایات سے وابستہ ایک پراسرار علامت قرار دیا جاتا ہے۔

کازینفورم کی رپورٹس کے مطابق اس تاریخی مذہبی شاہکار کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر قازقستان کے صدر کی جانب سے قومی کانگریس کے تیسرے اجلاس میں مانگیستائو کی زیرِ زمین مساجد کو یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی فائل پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔

یہ وسیع تاریخی مجموعہ صرف ایک غار نما عبادت گاہ تک محدود نہیں بلکہ اس میں تاریخی مقبرے ساگاناتام اور کولپیتاس کے قدیم سنگِ قبر بھی شامل ہیں، جن کا تعلق دسویں سے انیسویں صدی عیسوی کے مختلف ادوار سے بتایا جاتا ہے۔ ان آثار نے اس صحرائی خطے کی تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

کازینفورم کے مطابق شاکپک آتا، گاؤں تاوشیک سے تقریباً 30 کلومیٹر اور شہر آکتاؤ سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مقام ہر سال اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر سے آنے والے متعدد زائرین اور سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے۔

قدیم سمندر ٹیتھیس کے وجود کے زمانے میں تشکیل پانے والی اس سرزمین پر واقع شاکپک آتا، قازقستان کے مسلمانوں کے لیے محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ توحید، معرفت اور اسلامی روحانیت کی گہری تاریخی جڑوں سے تجدیدِ عہد کا ایک زندہ مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button