نوجوان اپنے والدین سے شرم کیوں کرتے ہیں؟

بچپن سے خودمختاری کی طرف نفسیاتی سفر اور والدین کے لئے جامع رہنمائی
بچوں کے نوجوانی کی عمر میں داخل ہونے کے ساتھ اکثر ایسے رویے سامنے آتے ہیں، جیسے والدین سے گفتگو سے گریز، ہم عمر دوستوں کے درمیان والدین کی موجودگی کو ناپسند کرنا اور ان سے زیادہ سے زیادہ فاصلے کی خواہش۔
نفسیاتی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عام تصور کے برخلاف یہ رویہ والدین کی بے ادبی یا ان سے بے رغبتی کی علامت نہیں، بلکہ شخصیت کی تشکیل، خودمختار شناخت کے قیام اور بچپن کی رویّاتی وابستگیوں سے نکلنے کے فطری عمل کا ایک حصہ ہے۔ اس ضرورت کو درست طور پر سمجھ کر اور شعوری انداز میں ردعمل دے کر والدین اس حساس مرحلے کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔
آئیے، اس موضوع کا جائزہ لینے والی ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
نوجوانی انسانی نشوونما کے اہم ترین اور ساتھ ہی سب سے زیادہ چیلنجنگ مراحل میں شمار ہوتی ہے۔
اس مرحلے میں نوجوان جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پر وسیع تبدیلیوں سے گزرتا ہے اور اپنی آزاد شخصیت تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی دوران بہت سے والدین کو اس وقت تشویش ہوتی ہے جب نوجوان عوامی مقامات، تقریبات یا اپنے دوستوں کے درمیان والدین کے ساتھ نظر آنے میں جھجھک یا بے رغبتی کا اظہار کرتا ہے۔
والدین کبھی کبھی اس رویے کو اپنے آپ کو مسترد کئے جانے یا بے ادبی کے طور پر سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں اس مسئلے کی جڑ نوجوان کے بدلتے ہوئے سماجی اور رویّاتی رجحانات میں ہوتی ہے۔
اس عمر میں دوستوں اور ہم عمروں کے گروپ میں قبول کئے جانے کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ نوجوان اپنے حلیے، رویے اور سماجی حیثیت کے بارے میں ہم عمر افراد کے فیصلے سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
والدین کے بعض ایسے رویے جو گھر میں بالکل معمولی محسوس ہوتے ہیں، مثلاً بچوں کی طرح پیار سے نام پکارنا، دوسروں کے سامنے ذاتی معاملات کے بارے میں سوال کرنا یا دوستوں کی موجودگی میں خاندانی نوعیت کے مذاق کرنا، نوجوان کی نظر میں اس کی خودمختار اور بالغ شخصیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
درحقیقت مسئلہ خود والدین نہیں ہوتے، بلکہ نوجوان اس بات کے بارے میں فکرمند ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان والدین کی موجودگی اس کی شخصیت اور اس کی خودمختاری کے بارے میں کیا تاثر پیدا کرے گی۔
ایسے حالات میں والدین کا رویہ مستقبل کے خاندانی تعلقات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ نگرانی، سرزنش یا یہ سوال کرنا کہ "تمہیں ہم سے شرمندگی کیوں ہوتی ہے؟” صورتِ حال کو بہتر بنانے کے بجائے فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا مشورہ ہے کہ والدین فطری خودمختاری کی خواہش اور غیر صحت مند تنہائی کے درمیان فرق کو سمجھیں۔
نوجوان کی ذاتی حدود کا احترام، دوسروں کے سامنے گفتگو کا انداز تبدیل کرنا اور اس سے یہ پوچھنا کہ "اس محفل میں کون سی چیز تمہیں بے چین کرتی ہے؟” اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی خودمختاری اور شخصیت کا احترام کیا جا رہا ہے۔
یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات سے بھی ہم آہنگ ہے۔
رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوجوانی کے دور کو "وزارت” کا زمانہ قرار دیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نوجوان سے مشورہ کیا جائے اور اسے ایک مستقل شخصیت کے طور پر اہمیت دی جائے۔
اسی طرح امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے نوجوان کی عزتِ نفس کے تحفظ اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس کے ساتھ نرمی اور حکمت سے پیش آنے پر زور دیا ہے، تاکہ والدین کی دانشمندانہ رہنمائی کے ساتھ خاندان کے جذباتی اور محبت بھرے رشتے بھی مضبوط اور پائیدار رہیں۔




