معصومین علیہم السلام کی قنوت پر تاکید کی وجہ

نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی جانب سے قنوت پر بار بار کی جانے والی تاکید، نماز کے اِس جزو کی اُس خصوصی حیثیت کی بیانگر ہے جو اِسے بندے اور خالق کے مابین بلاواسطہ خلوت گاہ بناتی ہے۔
میرے ساتهی نے اپنی رپورٹ میں اِس موضوع کو یوں بیان کیا ہے، آئیے ملاحظہ کریں:
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں نماز محض اذکار اور ظاہری حرکات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اِس کی حقیقت دل کا پروردگار سے رشتہ استوار کرنا ہے۔
قنوت لغت میں اطاعت، خضوع اور دوامِ عبادت کے معنی میں آتا ہے، اور اصطلاحِ شرعی میں نماز کے اُس معنوی جزو کو کہا جاتا ہے جس میں نمازی دوسری رکعت میں اپنے دونوں ہاتھ نیاز و تسلیم کی علامت کے طور پر آسمان کی جانب بلند کرتا ہے اور رازو نیاز، تمجیدِ الٰہی اور طلبِ حاجت میں مصروف ہوتا ہے۔
معصومین علیہم السلام کی جانب سے دوسری رکعت میں قنوت پر تاکید کی اصل وجہ یہ ہے کہ قنوت خشوع کی معراج، معنوی دستگیری اور غیرِ خدا سے انقطاع کا نقطۂ عروج ہے۔
اِس لمحے بندہ اپنے ہاتھ نیاز کے ساتھ بلند کر کے اپنی احتیاج اور خدا کی بے نیازیِ مطلق کا اقرار کرتا ہے، اور یہی کیفیت رحمتِ الٰہی کے نزول اور مغفرت کے حصول کا سبب بنتی ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں، قنوت پر تاکید کی ایک اہم وجہ نماز کو "کمال بخشنے” میں اس کا کردار ہے۔
چنانچہ کتابِ شریف "الکافی” (جلد ۳، صفحہ ۳۴۰) میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: «مَنْ تَرَکَ الْقُنُوتَ رَغْبَةً عَنْهُ فَلَا صَلَاةَ لَهُ»، یعنی "جو شخص بے رغبتی کے باعث قنوت ترک کر دے، اُس کی نماز کامل نہیں۔”
یہ سنتِ نبوی ایک ایسا موقع ہے جس سے انسان کی ناتمام نماز دعا اور رازو نیاز کے ذریعے جلا پاتی ہے۔ اِسی طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اِسی ماخذ کی ایک اور روایت میں تاکید فرمائی ہے:
«مَنْ نَسِيَ الْقُنُوتَ حَتَّى يَرْكَعَ فَلْيَقْنُتْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَلْيَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ثُمَّ لِيَقْنُتْ، وَإِنْ كَانَ فِي الطَّرِيقِ، فَإِنِّي أَكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَرْغَبَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ»
یعنی: اگر کوئی شخص قنوت بھول جائے تو رکوع کے بعد قنوت بجا لائے، اور اگر نماز سے فارغ ہونے تک یاد نہ آئے تو قبلہ رُخ ہو کر قنوت ادا کرے، اور اگر راستے ہی میں ہو تب بھی — کیونکہ مجھے یہ ناپسند ہے کہ کوئی شخص رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنت سے رُوگردانی کرے۔
قنوت کی اہمیت کے سلسلے میں معصومین علیہم السلام کے کلام میں بیان کی گئی ایک اور وجہ اس کے "قیامت میں معنوی اثرات و برکات” اور "دعا کی قبولیت کے بہترین موقع” ہونے کی حیثیت ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے "مَن لا یَحضُرُہ الفقیہ” (جلد ۱، صفحہ ۴۸۷) کی روایت کے مطابق، قنوت اور اُس میں خشوع کو قیامت کے سخت مراحل میں انسان کے لیے سکون و امان کا باعث قرار دیا ہے۔
اِس کے علاوہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام "الکافی” (جلد ۳، صفحہ ۳۳۹) میں یہ راہنمائی فرماتے ہیں کہ واجب نمازوں کی قنوت طلبِ حاجات کا بہترین موقع ہے، جبکہ نمازِ وتر کی قنوت استغفار کے لیے ایک خاص موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔
اِسی طرح روایات میں یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ اِس نورانی لمحے کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اُن کی پاکیزہ آل علیہم السلام پر درود اور حضرت ولیِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تعجیلِ فرج کی دعا سے آراستہ کیا جائے، تاکہ نماز میں روحِ بندگی اور ولایت مداری زندہ رہے۔




