تاریخ اسلام

5 ربیع الاول؛ یوم شہادت شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ تشیع میں بعض ہستیاں ایسی ہیں جن کا تذکرہ محض ماضی کی یاد نہیں رہتا، بلکہ وہ علم و عمل کی ایک زندہ روایت بن جاتا ہے۔ شہیدِ ثانی حضرت شیخ زین الدین عاملی جبعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی درخشاں شخصیات میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علومِ آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیم، تحقیق، تدریس اور ترویج کے لئے وقف کردی۔ آپ عظیم فقیہ، جامع العلوم عالم، صاحبِ نظر محقق اور بلند پایہ مصنف تھے، جن کی علمی شخصیت وسعتِ مطالعہ، عمیق فکر اور کثرتِ اسفار کا حسین امتزاج تھی۔

علم کی جستجو آپ کو ایک مقام پر ٹھہرنے نہ دیتی تھی۔ آپ نے میس، دمشق، مصر، بیت المقدس، عراق اور قسطنطنیہ جیسے اہم علمی مراکز کا سفر کیا، مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور فقہ و اصول کے ساتھ حدیث، درایہ، تفسیر، منطق، فلسفہ، طب، ہیئت اور دیگر علوم میں بھی کسبِ فیض کیا۔ بعلبک میں آپ نے مختلف فقہی مکاتب کے مباحث کی تدریس کے ذریعہ اپنی وسعتِ نظر، فقہی بصیرت اور علمی جامعیت کا بے مثال مظاہرہ کیا۔

آپ کی علمی میراث نہایت گراں قدر اور وسیع ہے۔ الروضة البهية في شرح اللمعة الدمشقية، جو آج حوزاتِ علمیہ میں ’’شرحِ لمعہ‘‘ کے نام سے معروف ہے، آپ کی فقہی عظمت کی روشن دلیل ہے۔ مسالك الأفهام، روض الجنان، منية المريد، مسكن الفؤاد، كشف الريبة اور دیگر متعدد تصانیف بھی آپ کی علمی خدمات کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ آپ نے صرف کتابیں تصنیف نہیں کیں، بلکہ فقہ، اخلاق، تعلیم، تربیت اور معارفِ اسلامی کے ایسے چراغ روشن کئے جن کی روشنی صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود آج بھی باقی ہے۔

شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عظمت صرف ان کے علمی مقام تک محدود نہیں، بلکہ ان کی عملی زندگی بھی علم و عمل کے حسین امتزاج کا آئینہ دار تھی۔ بلند پایہ فقیہ ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزارتے، محنت کو باعثِ عار نہ سمجھتے اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خود بھی مشقت اٹھاتے تھے۔ ان کی زندگی علم کے ساتھ عمل، فقاہت کے ساتھ تقویٰ، عظمت کے ساتھ تواضع اور علمی مقام کے ساتھ خودداری کا حسین نمونہ تھی۔ ان کے فرزندِ ارجمند صاحبِ معالم، شیخ حسن بن زین الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی علم و فقہ کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنے والد کی علمی میراث کو آگے بڑھایا۔

بالآخر مذہبی تعصب اور مخالفانہ سازشوں کے نتیجے میں یہ عظیم فقیہ گرفتار ہوئے اور 5 ربیع الاول 966ھ کو شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ دشمن ان کے جسم کو نشانہ بنا سکا، مگر ان کے علم اور قلم کو خاموش نہ کرسکا۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا جسم دنیا سے رخصت ہوگیا، مگر ان کی کتابیں آج بھی مدارس و حوزات میں پڑھی جاتی ہیں، ان کے افکار آج بھی فقہ کے طالب علموں کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کا نام آج بھی علم و فقاہت کی تاریخ میں عقیدت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی دراصل ایک ایسی روشن کتاب ہے جس کا ہر باب علم، ہر سطر تقویٰ، ہر صفحہ مجاہدہ اور آخری باب شہادت ہے۔

وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کا قلم زندہ ہے؛
وہ خاموش ہوگئے، مگر ان کی کتابیں آج بھی بول رہی ہیں؛
ان کا جسم مفقود ہے مگر ان کی فکر آج بھی زندہ ہے؛
اور ان کا خونِ شہادت خشک ہوگیا، مگر اسی خون سے فقاہت کے چراغ آج بھی روشن ہیں۔

سلام ہو اس شہیدِ علم و فقاہت پر، جس نے علم کو زندگی دی، زندگی کو دین کے لئے وقف کیا اور اپنی شہادت سے علم کی ابدی حیات کا اعلان کردیا؛
اور جس کے نورِ قلم سے آج بھی افقِ فقاہت روشن ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button