خبریں

عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ: دنیا بھر میں طبی مراکز پر 10 ہزار سے زائد حملے

دنیا کے مختلف علاقوں میں طبی مراکز، اسپتال اور شعبۂ صحت و طب سے وابستہ عملہ بے مثال حملوں اور فوجی دھمکیوں کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

جو ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور مریضوں اور شعبۂ صحت کے محافظوں کی جان و صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

جاری کئے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2018 سے اب تک دنیا کے 29 بحران زدہ ممالک میں طبی مراکز پر 10 ہزار 400 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔

ان المناک واقعات کے نتیجے میں اب تک تقریباً 5700 افراد ہلاک جبکہ 8000 سے زائد مریض، ڈاکٹر اور نرسیں زخمی ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک نے اقوام متحدہ (UN) کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صرف 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران طبی مراکز پر 900 سے زائد حملے ریکارڈ کئے گئے، یعنی اوسطاً ہر روز چار سے زیادہ حملے ہوئے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار اور جائزوں کے مطابق ان حملوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال سب سے زیادہ عام طریقہ رہا ہے، جبکہ ان حملوں کی سب سے زیادہ تعداد فلسطین، لبنان اور یوکرین جیسے بحران زدہ علاقوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یمن، سوڈان، میانمار، کانگو، روس اور شام سمیت دیگر ممالک بھی اس سنگین چیلنج سے دوچار رہے ہیں۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ اب تک ان میں سے کسی بھی معاملے میں عدالتی کارروائی شروع نہیں کی گئی اور ان جرائم کے ذمہ دار افراد بدستور کسی بھی قسم کی سزا کے بغیر آزاد ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button