
انگلینڈ کی 510 مساجد کی جانب سے جولائی 2024ء سے نومبر 2025ء کے درمیان "مساجد کے حفاظتی اقدامات کے لئے پیشگی سکیورٹی پروگرام” کے تحت مالی امداد حاصل کرنے کے لئے درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ ان میں سے صرف 199 درخواستیں منظور کی گئیں، جبکہ 311 مساجد کئی ماہ بلکہ بعض صورتوں میں برسوں گزرنے کے باوجود تاحال فیصلے اور جواب کی منتظر ہیں۔
خبر رساں ادارہ لندن الیوم کے مطابق یہ اعداد و شمار برطانوی وزارتِ داخلہ کی جانب سے 9 ماہ تک معلومات فراہم کرنے سے انکار کے بعد سامنے آئے۔ بالآخر برطانوی دفترِ کمشنرِ اطلاعات کی براہِ راست مداخلت کے نتیجے میں یہ معلومات منظرِ عام پر آئیں۔
ان تاخیر کے انکشاف کے بعد اسلامی اداروں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ مسلم کونسل آف برطانیہ نے نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک حملوں میں اضافے، حتیٰ کہ ائمۂ مساجد کے گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حفاظتی نظام کا فوری اور آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح رکنِ پارلیمنٹ بل ریبرو-آدی نے عبادت گاہوں کی حفاظت کو حکومت کی ایک بنیادی اور انتہائی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فنڈز کی فراہمی میں اس قدر طویل تاخیر، مساجد کو درپیش خطرات کے مقابلے میں انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کے حفاظتی اخراجات کے لیے مالی امداد کو ان کے سوشل میڈیا کے مواد کی نگرانی سے مشروط کرنا، مساجد کی آواز کو دبانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔




