مصر حکومت کا اہلِ بیت علیہم السلام سے منسوب مساجد اور زیارت گاہوں کی مرمت و احیا کا جامع منصوبہ؛ تاریخی ورثے کی بحالی اور دینی سیاحت کا فروغ

مصر کی حکومت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام سے منسوب مساجد اور مزارات کی مرمت، بازسازی اور احیا کے لئے ایک وسیع اور قومی منصوبہ شروع کیا ہے۔
اس جامع پروگرام میں نہ صرف تاریخی عمارتوں کو مضبوط بنانا، ضریحوں کی تجدید اور اطراف کی سڑکوں و میدانوں کو منظم کرنا شامل ہے، بلکہ اس کا مقصد اسلامی ورثے کے قیمتی آثار کا تحفظ، قاہرہ کی تاریخی و ثقافتی شناخت اور قدیم شہری بافت کی بحالی، نیز مصر کو عالمِ اسلام میں دینی و ثقافتی سیاحت کے اہم مراکز میں سے ایک کے طور پر مزید مستحکم کرنا بھی ہے۔
آئیے، اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
قاہرہ میں تاریخی اور زیارتی مقامات کے احیا کا آغاز متعدد اہم زیارت گاہوں کی تعمیرِ نو اور مرمت سے ہوا، جس کے بعد اس منصوبے کا دائرہ مزید وسیع کرکے بڑے بنیادی اور ساختی منصوبوں تک پھیلا دیا گیا۔
اس قومی منصوبہ کے اہم ترین حصوں میں سے ایک امام حسین علیہ السلام کی مسجد کی مکمل مرمت تھی، جس کی ابتدائی تعمیر فاطمی دور سے منسوب کی جاتی ہے۔
اس منصوبے کے تحت مسجد کی عمارت اور ضریحِ مبارک کی تجدید کی گئی، جبکہ اس کے اطراف کے علاقے کو فاطمی طرزِ تعمیر کی تاریخی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے منظم کیا گیا۔
یہ مسجد متعدد قیمتی تاریخی آثار کا بھی مرکز ہے، جن میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے منسوب خطِ کوفی میں تحریر شدہ قرآنِ کریم کے دو نسخے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب متعدد تبرکات شامل ہیں۔
نشریہ البوابہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، مقدس اور زیارتی مقامات کی تعمیر و مرمت کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھے۔ اسی سلسلے میں حضرت سیدہ نفیسہ سلام اللہ علیہا کی مسجد بھی تعمیراتی توسیع، جدید روشنی کے نظام اور اطراف کے علاقے کی تنظیم و آرائش کے بعد زائرین کے لئے دوبارہ کھول دی گئی۔
اس عظیم المرتبت خاتون کا مزار، جن کے شوہر اسحاق بن امام جعفر صادق علیہ السلام نے انہیں مصر میں دفن کئے جانے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مصر کے معروف ترین اسلامی زیارت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی طرح حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی مسجد کو بھی اس منصوبے کے تحت ازسرِنو تعمیر اور توسیع دی گئی۔ اسے اہلِ بیت علیہم السلام سے منسوب اہم مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔ تعمیرِ نو کے بعد مسجد کا رقبہ 900 مربع میٹر تک بڑھا دیا گیا، جہاں تقریباً 1500 نمازیوں کی گنجائش پیدا ہوگئی۔
ان تعمیراتی اور بحالی کے اقدامات کا دائرہ دیگر مزارات اور زیارت گاہوں تک بھی پھیلا، جن میں حضرت سیدہ فاطمہ نبویہ سلام اللہ علیہا کی مسجد بھی شامل ہے۔ آپ امام حسین علیہ السلام کی دختر تھیں اور مصر کے عوام میں اُمّ الیتامیٰ کے نام سے معروف ہیں۔ اسی طرح حضرت سیدہ رقیہ سلام اللہ علیہا، دخترِ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، سے منسوب مسجد کی بھی مرمت اور بنیادی سہولیات کی توسیع کی گئی۔ دونوں مقامات پر تعمیراتی و مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ زائرین کے لیے کھول دیا گیا۔
انفرادی طور پر مساجد اور زیارت گاہوں کی تعمیر و مرمت کے ساتھ ساتھ مصر کی حکومت نے قاہرہ کے تاریخی علاقے میں "مسیرِ اہلِ بیت علیہم السلام” کے احیا کے لئے بھی ایک وسیع منصوبہ شروع کیا ہے، جس کی لمبائی تقریباً دو کلومیٹر ہے۔
یہ تاریخی راستہ فسطاط، سیدہ نفیسہ، امام حسین علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا جیسے اہم مقامات کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تاریخی عمارتوں، گنبدوں اور قدیم گلیوں کی مرمت و تزئین کے ساتھ پورے علاقے کو منظم کیا گیا ہے، تاکہ تاریخی آثار کے تحفظ، زائرین کو مناسب رفاہی سہولیات کی فراہمی اور دینی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے درمیان ایک متوازن نظام قائم کیا جاسکے۔
یوں مصر میں اہلِ بیت علیہم السلام سے منسوب ان تاریخی و زیارتی مقامات کی بحالی محض تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ اسلامی تہذیبی ورثے کے تحفظ، قاہرہ کے تاریخی تشخص کی بازیافت اور دینی و ثقافتی سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔




