26 صفر: لشکرِ اسامہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا آخری حکم اور تاریخ کا ایک سوال

26 صفر سنہ 11 ہجری تاریخِ اسلام کا وہ اہم دن ہے جب رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک لشکر کو رومی سلطنت کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا۔ اس لشکر میں مہاجرین و انصار کے سرکردہ افراد بھی شامل تھے، مگر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نسبتاً کم عمر نوجوان کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا۔
یہ فیصلہ بذاتِ خود ایک اہم پیغام رکھتا تھا کہ اسلامی قیادت اور ذمہ داری کا معیار صرف عمر، خاندان یا سماجی مقام نہیں بلکہ صلاحیت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتماد ہے۔
رسول کا صریح حکم
شیعہ تاریخی مصادر میں نقل ہوا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے لشکرِ اسامہ کی روانگی پر بار بار تاکید فرمائی اور فرمایا: "جَهِّزُوا جَيْشَ أُسَامَةَ، لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ جَيْشِ أُسَامَةَ” یعنی ’’لشکرِ اسامہ کو تیار کرو، اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو لشکرِ اسامہ سے پیچھے رہے۔‘‘
یہ واقعہ بحارالانوار، جلد 30، صفحات 427-428 میں تفصیل سے نقل ہوا ہے۔ اسی طرح دیگر تاریخی مصادر میں بھی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے لشکرِ اسامہ کو روانہ کرنے کے مسلسل اصرار کا ذکر ملتا ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی بیماری شدت اختیار کرچکی تھی، مگر اس کے باوجود آپؐ نے اس لشکر کی روانگی کو اہمیت دی۔ روایات میں آپؐ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں: "أَنْفِذُوا جَيْشَ أُسَامَةَ” یعنی: ’’اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو۔‘‘
کم عمری پر اعتراض
تاریخی روایات کے مطابق بعض افراد نے اسامہ کی کم عمری کو بنیاد بنا کر ان کی سپہ سالاری پر اعتراض کیا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس اعتراض کے مقابلے میں اسامہ کی تقرری کا دفاع فرمایا۔
یہاں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: جب کسی شخصیت کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ خود کسی ذمہ داری کے لئے منتخب فرمائیں تو کیا ایک مسلمان کو اپنی ذاتی رائے کو اس انتخاب پر ترجیح دینے کا حق ہے؟
قرآن کریم واضح طور پر فرماتا ہے: "وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ” (سورۂ احزاب، آیت 36)
’’کسی مؤمن مرد یا عورت کے لئے یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر انہیں اپنے معاملے میں اختیار باقی رہے۔‘‘
لشکرِ اسامہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے بعد کے حالات
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی شہادت کے بعد لشکرِ اسامہ کے بارے میں دوبارہ گفتگو ہوئی اور بالآخر اسے روانہ کیا گیا۔ اس واقعہ کی تاریخی تفصیلات مختلف مصادر میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں؛ اسی لئے علمی تحریر میں ضروری ہے کہ ہر جز کو قطعی اور متفق علیہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ماخذ اور روایت کے درجے کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
شیعہ نقطۂ نظر سے اس واقعہ کی اہمیت صرف ایک فوجی مہم کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے آخری ایام کے سیاسی و اجتماعی حالات کے پس منظر میں بھی ہے۔ اسی لیے واقعۂ لشکرِ اسامہ کو سقیفہ اور بعد کے واقعات کے ساتھ ملا کر تاریخِ اسلام کے ایک اہم باب کے طور پر زیرِ مطالعہ لایا جاتا ہے۔
اسامہ کے بارے میں اہلِ بیت علیہم السلام کا متوازن موقف
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول روایات میں اسامہ بن زید کے بارے میں یک طرفہ منفی موقف نہیں ملتا۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: "لَا تَقُولُوا فِي أُسَامَةَ إِلَّا خَيْرًا”
یعنی: ’’اسامہ کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہ کہو۔‘‘
اس روایت سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ تاریخی اختلافات کے باوجود اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب میں کسی شخصیت کے بارے میں انصاف، تحقیق اور مجموعی کردار کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
26 صفر ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ یاد نہیں دلاتا بلکہ چند بنیادی سوالات ہمارے سامنے رکھتا ہے:
کیا ہم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے احکام کو اپنی پسند اور مصلحت پر مقدم رکھتے ہیں؟
کیا قیادت کے لئے عمر اور ظاہری سماجی مقام کو معیار بناتے ہیں یا اہلیت اور شرعی تقرری کو؟
اور سب سے بڑھ کر کہ کیا تاریخ ہمارے لئے صرف واقعات کا مجموعہ ہے یا عبرت اور اصلاح کا ذریعہ بھی؟
لشکرِ اسامہ کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی اطاعت محض محبت کے دعوے کا نام نہیں بلکہ حکمِ رسولؐ کے سامنے عملی تسلیم و رضا کا تقاضا کرتی ہے۔
آج 26 صفر کے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تاریخ کو جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق، انصاف اور قرآن و اہلِ بیت کی تعلیمات کی روشنی میں پڑھیں۔
حکمِ رسول کے مقابلے میں ذاتی رائے نہیں؛ قیادت میں تعصب نہیں؛ تاریخ کے مطالعے میں انصاف؛ اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب میں تحقیق و بصیرت۔ یہی 26 صفر کا اصل پیغام ہے۔
اہم حوالہ جات:
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج 30، ص 427-428؛ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج 6؛ الملل والنحل، شهرستانی، ج 1؛ نیز واقعۂ جیشِ اسامہ سے متعلق دیگر تاریخی و حدیثی مصادر۔




