طالبان کے ترجمان کا افغانستان میں داعش کے مراکز اور ٹھکانوں کے مکمل خاتمے کا دعویٰ، بین الاقوامی سطح پر شدید شکوک و شبہات
طالبان کے ترجمان کا افغانستان میں داعش کے مراکز اور ٹھکانوں کے مکمل خاتمے کا دعویٰ، بین الاقوامی سطح پر شدید شکوک و شبہات
افغانستان میں دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے اور شدت پسند سنی تنظیم داعش کے مراکز اور آپریشنل ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے متعلق طالبان حکام کے دعوے کو عالمی سطح پر منفی ردِعمل اور شدید شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔
شبکہ خبری ’’طلوع نیوز‘‘ (TOLOnews) کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کو افغانستان کے پورے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کسی بھی مسلح گروہ کو آزادانہ سرگرمیاں انجام دینے یا افغانستان کی سرزمین کو دیگر ممالک اور خطے کے حکام کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے اہم ڈھانچے اور بنیادی ٹھکانے افغانستان کے اندر مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب اس کے صرف محدود تعداد میں عناصر فرار ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
تاہم، متعدد ممالک، مبصرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے طالبان کے اس دعوے پر شدید شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان اور داعش، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے سنی شدت پسند گروہوں کے درمیان مضبوط اور پسِ پردہ روابط موجود ہیں اور طالبان درحقیقت ان گروہوں کے لیے افغانستان میں حکومت چلانے کے لیے ایک نمائندہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے یہ بیانات خطے میں بڑھتے ہوئے شدت پسند اور دہشت گرد خطرات کو چھپانے کی ایک سیاسی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔




