اسوۂ ایمان و تقویٰ کا یوم وفات؛ تاریخِ اسلام میں حضرت فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا کے بلند مقام و منزلت پر ایک نظر

23 صفر اسلام کی ابتدائی تاریخ کی ایک عظیم خاتون، فضیلت، ایثار اور وفاداری کی پیکر حضرت فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا کی وفات کی برسی ہے۔
آپ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی زوجہ مکرمہ اور امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی عظیم والدہ تھیں۔ آپ نے 4 ہجری قمری میں اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔
تاریخی مصادر اور اسلامی روایات کے مطابق اس عظیم خاتون نے بعثتِ نبوی کے نہایت دشوار اور کٹھن دور میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں کلیدی اور ماندگار کردار ادا کیا۔ آپ ہمیشہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک شفیق پناہ گاہ اور سہارا ثابت ہوئیں۔
تاریخی منابع اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا اسلام قبول کرنے والی اولین خواتین میں شامل تھیں۔ انہوں نے شعبِ ابی طالب کی سختیوں کو برداشت کیا، پھر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کی اور اپنے غیر متزلزل ایمان، بے مثال وفاداری اور قربانی کو عملی طور پر ثابت کیا۔
اس عظیم خاتون کی یاد کو زندہ رکھنا، اسلام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں مؤمن خواتین کے بلند مقام، ان کے کردار اور ان کی بے مثال خدمات کی یاد تازہ کرتا ہے۔




