تاریخ اسلام

12 ذی الحجہ؛  قافلۂ امام حسین علیہ السلام کا وادیٔ عقیق میں ورود

12 ذی الحجہ 60 ہجری بروز ہفتہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا قافلہ “وادیٔ عقیق” پہنچا۔ بعض لوگ اسی مقام سے حج کا احرام باندھتے ہیں، کیونکہ یہ مقام ذوالحلیفہ کے مقابلہ میں مکہ سے زیادہ قریب ہے۔

اسی منزل پر حضرت عبداللہ بن جعفر طیار علیہ السلام کے دونوں فرزند شہیدان کربلا حضرت عون علیہ السلام اور حضرت محمد علیہ السّلام امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ اپنے والد کا ایک خط بھی ساتھ لائے تھے، جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے درخواست کی گئی تھی کہ آپ کوفہ جانے کا ارادہ ترک کرکے واپس مکہ تشریف لے آئیں۔

ادھر عبداللہ بن جعفر نے خط لکھنے کے ساتھ ساتھ مکہ کے حاکم عمرو بن سعید سے ملاقات کی اور امام حسین علیہ السلام کے لئے امان حاصل کی۔ پھر اس امان نامے اور ایک خط کو عمرو بن سعید کے بھائی کے ذریعہ امامؑ کی خدمت میں روانہ کیا۔

بعد میں عبداللہ بن جعفر علیہ السلام خود بھی آئے اور مقامِ “ذاتِ عِرق” پر امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی، اور امان نامہ آپؑ کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے مکہ واپس جانے سے انکار فرما دیا اور فرمایا: “میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، جنہوں نے مجھے اپنے سفر کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے، اور میں وہی انجام دوں گا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا ہے۔”

اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے عمرو بن سعید کے خط کا جواب بھی تحریر فرمایا۔

عبداللہ بن جعفر علیہ السلام اور یحییٰ بن سعید امام حسین علیہ السلام سے جدا ہو کر واپس چلے گئے، لیکن عبداللہ بن جعفر علیہ السلام کے دونوں بیٹے امامؑ کے ساتھ ہی رہے۔

جناب عبداللہ علیہ السلام نے اپنے فرزندوں کو نصیحت کی کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی خدمت اور ہمراہ رہیں۔ البتہ خود معذرت کرکے واپس لوٹ گئے۔

بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اسی مقام پر امام حسین علیہ السلام کی ملاقات بشر بن غالب سے بھی ہوئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button