
شدید ضربات سہنے اور اپنے کئی سینئر کمانڈرز کے مارے جانے کے باوجود داعش کا شدت پسند سنی گروہ اب بھی انسانی معاشروں کے امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس گروہ نے اپنی ساخت میں لچک پیدا کر کے اور نئے حالات سے ہم آہنگی اختیار کر کے اپنی دوبارہ منظم شدہ پوزیشن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
"مڈل ایسٹ نیوز” کے مطابق، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشتگردی کی سربراہ اوگولگرین نیازبردیوا نے سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کے باعث داعش کے مرکزی نظم و نسق کی صلاحیت کمزور ہونے کے باوجود یہ دہشتگرد تنظیم اب بھی ایک متحرک اور فعال خطرہ ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق داعش کے عناصر بنیادی طور پر کمزور سیکیورٹی ماحول اور طویل مسلح تصادموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی موجودگی کو دوبارہ مضبوط کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اس عہدیدار نے یاد دلایا کہ یہ خطرات خاص طور پر افریقہ کے کچھ حصوں میں، جن میں ساحل کا علاقہ اور جھیل چاڈ کا طاس شامل ہے، انتہائی تشویشناک سطح پر رپورٹ کئے گئے ہیں۔




