شیعہ میڈیا اور ادارے

طریق یا زینب مشایہ کی بحالی اور تحفظ میں مؤسسۂ مصباح الحسین کا کردار

تلعفر سے کربلائے معلی تک

تلعفر سے کربلائے معلی تک جاری رہنے والا اربعین کا پیدل زیارتی راستہ “طریق یا زینب سلام اللہ علیہا” گزشتہ چار برس کے دوران مؤسسۂ ثقافتی و فلاحی مصباح الحسین علیہ السلام کی مسلسل کوششوں اور بھرپور تعاون کے باعث علاقے کے شیعوں کے لیے امن، یکجہتی اور استقامت کی ایک دائمی علامت بن چکا ہے۔

آئیے اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:

اربعینِ حسینی کا عظیم پیدل سفر ہمیشہ سے عشقِ امام حسینؑ، ایثار اور مشکلات و فتنوں کے مقابلے میں شیعوں کی ثابت قدمی کا عظیم مظہر رہا ہے۔

حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے زائرین مختلف راستوں سے کربلائے معلی کی جانب روانہ ہوتے ہیں، تاہم “طریق یا زینب سلام اللہ علیہا” کے نام سے معروف یہ راستہ، جو تلعفر سے شروع ہو کر کربلائے معلی تک پہنچتا ہے، عراق کے ایک نہایت حساس علاقے میں امن کی بحالی، استقامت اور شعائرِ حسینی کی تجدید کی ایک منفرد داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

گزشتہ برسوں میں تلعفر کے شیعہ شدید سکیورٹی خدشات اور علاقائی مشکلات کے باعث اربعین کی پیادہ روی میں شرکت کے حوالے سے مسلسل تشویش کا شکار رہے، جس کے باعث اس راستے پر مؤثر حفاظتی انتظامات اور مناسب سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہو گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اخبار شیعہ کے مطابق، مؤسسۂ ثقافتی و فلاحی مصباح الحسین علیہ السلام، جو آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے دفتر سے وابستہ اداروں میں شمار ہوتا ہے، نے اس بابرکت مشایہ کے قیام، تنظیم اور تسلسل کو یقینی بنانے میں نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

ادارے نے تلعفر کے زائرین کے حساس حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے کے عوام کو شعائرِ حسینی کی تجدید اور اربعین کی پیادہ روی میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی، جبکہ متعلقہ اداروں سے وسیع پیمانے پر رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے اس راستے پر امن و امان کی فضا قائم کرنے اور زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

“طریق یا زینب سلام اللہ علیہا” پر اربعین کی پیادہ روی کا آغاز سن 2019ء میں ہوا، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ راستہ شمالی عراق کے شیعوں کی کربلا کی جانب سب سے اہم اور باوقار زیارتی گزرگاہوں میں شمار ہونے لگا۔

مؤسسۂ ثقافتی و فلاحی مصباح الحسین علیہ السلام نے گزشتہ چار برس کے دوران صرف حفاظتی اقدامات ہی نہیں کیے بلکہ مختلف خدمت گزار مواکب کو منظم اور فعال بنا کر زائرینِ سیدالشہداء علیہ السلام کے لیے ایک محفوظ، پُرامن اور ہر طرح کی رفاہی سہولیات سے آراستہ ماحول بھی فراہم کیا۔

یہ تمام اقدامات اس ادارے کی اس جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ثقافتِ زیارت کا فروغ، زائرینِ امام حسینؑ کی تکریم، اور عراق کے تمام شیعوں، خصوصاً متاثرہ اور حساس علاقوں کے عوام، کو اربعین حسینی میں بھرپور، پُرامن اور بے فکری کے ساتھ شرکت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button