تاریخ اسلام

14 صفر؛ یوم شہادت حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

نسب سے بڑھ کر وفاداری کی لازوال مثال

تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کا معیار نسب نہیں، بلکہ ان کا ایمان، بصیرت اور امامِ حق کے ساتھ ان کی وفاداری ہوتی ہے۔ وہ اپنے خاندانی پس منظر سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، اخلاص اور قربانی سے پہچانے جاتے ہیں۔

حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایسی ہی جلیل القدر شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی حقیقی شناخت اس کے آباء و اجداد نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ، معرفت، تقویٰ اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی ہے۔

مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے نزدیک تاریخ صرف واقعات کا بیان نہیں، بلکہ حق و باطل، وفا و بے وفائی اور ہدایت و گمراہی کے درمیان مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔

اسی تاریخ میں کچھ افراد بلند نسب کے باوجود حق سے محروم رہے، جبکہ بعض ایسے بھی ہوئے جنہیں ایمان، معرفت اور اطاعت نے اہلِ بیت علیہم السلام کے مقربین میں شامل کر دیا۔ حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اسی حقیقت کی روشن مثال ہیں۔

قرآنِ کریم نے حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کے واقعات کے ذریعہ یہ اصول واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نجات کا معیار نسب نہیں بلکہ ایمان اور اطاعت ہے۔

اسی حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ علیہ کے بارے میں اپنے مشہور ارشاد "سلمان منا اهل البيت” کے ذریعہ مزید نمایاں فرمایا۔ یہ اعلان اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ولایت کا تعلق خون سے نہیں بلکہ ایمان اور وفاداری سے قائم ہوتا ہے۔

حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اسی قرآنی اصول کی عملی تفسیر ہے۔ اگرچہ وہ نسب کے اعتبار سے پہلے خلیفہ کے فرزند تھے، لیکن ان کی روحانی تربیت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی آغوش میں ہوئی۔ حضرت اسماء بنت عمیس رضوان اللہ علیہا کے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے عقد کے بعد محمد بن ابی بکر نے اسی گھر میں پرورش پائی جو علم، عدل، عبادت، حلم اور ایثار کا سرچشمہ تھا۔

اسی تربیت نے ان کی شخصیت کو وہ استحکام عطا کیا کہ ان کے افکار میں حکمتِ علوی، ان کے کردار میں عدلِ علوی، ان کے صبر میں استقامتِ علوی اور ان کی وفاداری میں محبتِ علوی نمایاں نظر آتی ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ میری آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے اور میں انہیں اپنے فرزند کی مانند سمجھتا تھا۔

یہ صرف شفقت کا اظہار نہیں بلکہ اس روحانی نسبت کی گواہی ہے جو ایمان اور ولایت کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
روایات میں حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخلص اصحاب اور اہلِ بیت علیہم السلام کے وفادار شیعوں میں شمار کیا گیا ہے۔

ان کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے ولایتِ علی علیہ السلام کو محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی روح سمجھ کر اختیار کیا۔

جنگِ جمل ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھی۔ ایک طرف نسبی تعلقات تھے اور دوسری طرف امامِ وقت کی اطاعت۔ انہوں نے کسی تردد کے بغیر حق کا ساتھ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ مومن کے نزدیک حق کا رشتہ ہر خاندانی تعلق سے مقدم ہوتا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ تاریخ میں بصیرت، استقامت اور وفاداری کی مثال بن گیا۔

بعد ازاں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے انہیں مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔ یہ تقرری صرف سیاسی اعتماد کا اظہار نہیں تھی بلکہ ان کی دیانت، تقویٰ، امانت داری اور حسنِ کردار کا اعتراف بھی تھی۔ انہوں نے حکومت کو اقتدار نہیں بلکہ ایک شرعی امانت سمجھا اور رعایا کی خدمت کو اپنا فرض قرار دیا۔

جب شام کی افواج نے مصر پر حملہ کیا تو حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے انتہائی نامساعد حالات، وسائل کی کمی اور بعض ساتھیوں کی بے وفائی کے باوجود حق کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ وہ آخر دم تک میدانِ وفا میں ثابت قدم رہے اور 14 صفر 38 ہجری کو جامِ شہادت نوش کیا۔

دشمن نے ان کے جسم کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا، مگر ان کی وفاداری، عزیمت اور نام کو مٹا نہ سکا۔ان کی شہادت اس بات کی دلیل بن گئی کہ اہلِ ولایت کے لیے عزت کا معیار دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔

حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اہلِ ایمان کے لئے یہ دائمی پیغام رکھتی ہے کہ ولایت صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ دل کا یقین، عقل کی بصیرت، عمل کی استقامت اور ضرورت پڑنے پر جان کی قربانی کا نام ہے۔ جو شخص امامِ حق کی معرفت حاصل کر لیتا ہے، اس کے لیے دنیا کے تمام تعلقات اسی معرفت کے تابع ہو جاتے ہیں۔

اگر حضرت قنبر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ خدمتِ ولایت کی علامت ہیں، حضرت میثم تمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ استقامتِ ولایت کی تصویر ہیں، اور حضرت عمار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بصیرتِ ولایت کی آواز ہیں، تو حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اس حقیقت کے زندہ استعارہ ہیں کہ تربیتِ علوی انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں نسب کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں اور صرف ولایت کی نسبت باقی رہ جاتی ہے۔

یومِ شہادتِ حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کی پہچان، امامِ برحق کی اطاعت اور دین کے لئے ہر قربانی دینے کا جذبہ ہی انسان کو تاریخ میں زندہ جاوید بناتا ہے۔

یہی وہ درس ہے جس کی آج بھی امتِ مسلمہ کو شدید ضرورت ہے، تاکہ تعلقات، تعصبات اور دنیاوی مفادات سے بالاتر ہو کر حق اور ولایت کا دامن مضبوطی سے تھاما جا سکے۔

سلام ہو اس مردِ وفا پر، جس نے ثابت کیا کہ ولایت کی نسبت خون سے نہیں، ایمان سے قائم ہوتی ہے، اور یہی نسبت انسان کو قلوبِ مؤمنین میں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button