یکم صفر؛ اسیرانِ کربلا کا شام میں ورود

یکم صفر تاریخِ اسلام کا ایک نہایت دردناک اور غم انگیز دن سمجھا جاتا ہے، جسے اسیرانِ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے دمشق (شام) میں ورود کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
واقعۂ عاشورا کے بعد یزید بن معاویہ کے حکم پر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا اور دیگر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو کوفہ سے قیدیوں کی صورت میں شام روانہ کیا گیا۔
اس سفرِ اسارت کے دوران اہلِ بیت علیہم السلام کو شدید مصائب، بے حرمتی اور جسمانی و روحانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ شہدائے کربلا کے مقدس سروں کو بھی قافلے کے ساتھ دمشق لے جایا گیا۔
تاریخی روایات کے مطابق، دمشق میں قافلۂ اسیران کی آمد سے قبل شہر کو جشن کی کیفیت میں سجایا گیا تھا اور عوام کو اس واقعے کو حکومتی فتح کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم جب اہلِ شام کو معلوم ہوا کہ یہ قافلہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام کا ہے تو حالات کا رخ بدلنے لگا۔
یزید کے دربار میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے جرات مندانہ اور بصیرت افروز خطبات نے واقعۂ کربلا کی حقیقت کو آشکار کر دیا۔ ان خطبات نے بنی امیہ کے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا، یزید کے دعووں کو چیلنج کیا اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغامِ حق و عدالت کو امت تک پہنچایا۔
اگرچہ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دمشق پہنچنے کی تاریخ کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم مشہور روایت کے مطابق قافلۂ اسیران یکم صفر 61 ہجری کو شام پہنچا تھا۔
اسیری کے اس کٹھن مرحلے میں اہلِ بیت علیہم السلام نے صبر، استقامت، حق گوئی اور ظلم کے خلاف ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی جس نے پیغامِ عاشورا کو کربلا سے شام اور پھر آنے والی نسلوں تک پہنچا دیا۔
اسی بنا پر یکم صفر کو اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت، استقامت اور حق و باطل کی تاریخی کشمکش کی ایک اہم یادگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔




