کربلا میں ادارۂ اسرار الغدیر کا منفرد ثقافتی اقدام؛ پانچ روزہ "مخیمِ عاشورا" سے اربعین کے لئے مہدوی سفیروں کی تربیت

شہرِ مقدس کربلا میں ادارۂ اسرار الغدیر کے زیرِ اہتمام نوجوان طالبات کے لیے پانچ روزہ "مخیمِ عاشورا” کا دوسرا تربیتی و معرفتی دور منعقد کیا گیا۔
اس منفرد پروگرام کا محور کتاب "الخصائص الحسینیۃ” کی قرأت و شرح تھا، جبکہ اس کے ساتھ معرفتی، نفسیاتی اور فنی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ اربعینِ حسینی سے قبل نئی نسل کی فکری، روحانی اور ایمانی تربیت کا ایک جامع اور مؤثر نمونہ پیش کیا جا سکے۔

نوجوان نسل کی دینی تربیت اور انہیں اہلِ بیت علیہم السلام کی گہری اور مستند تعلیمات سے جوڑنے کے لئے جدید، پرکشش اور فکر انگیز پروگراموں کی ضرورت ہے۔
اسی مقصد کے پیشِ نظر ادارۂ اسرار الغدیر نے محرم الحرام 1448 ہجری کے آخری ہفتے میں 17 سے 25 سال عمر کی نوجوان طالبات کی پرجوش شرکت کے ساتھ "مخیمِ عاشورا” کے دوسرے دور کا انعقاد کیا۔

یہ پانچ روزہ معرفتی کیمپ روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہا، جس میں شرکاء کو دینی معارف، ثقافتی آگاہی اور فکری تربیت فراہم کی گئی۔
اس پروگرام کا مرکزی موضوع مرحوم شیخ جعفر شوشتری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف "الخصائص الحسینیۃ” کی قرأت اور تشریح تھا، جس میں حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے فضائل، امتیازات اور خصوصی اوصاف کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، منتظمین نے بتایا کہ دروس کے ساتھ نفسیات کی کلاسیں اور فنی ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں۔ اس تربیتی پروگرام کا ایک نمایاں پہلو مہدوی تربیت تھا، جس کے تحت نوجوان مبلغات کو اربعینِ حسینی کے مواکب میں دینی و تبلیغی خدمات انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا۔
اسی مقصد کے لئے "زیارۃ الاربعین سبیلٌ إلی الفرج” (زیارتِ اربعین، ظہورِ امامِ زمانہ علیہ السلام کی جانب ایک راستہ) کے عنوان سے حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں ایک ہزار معرفتی کتابچے بھی شائع کیے گئے، تاکہ اربعین کے زائرین تک اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات، ثقافتِ انتظار اور تعجیلِ ظہور کی دعا کا پیغام پہنچایا جا سکے۔
رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے خودجوش، بامقصد اور مثالی ثقافتی اقدامات معاشرے میں دینی شعور اور معرفت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی و ثقافتی مراکز، امام بارگاہ اور دیگر مذہبی ادارے بھی اس کامیاب تجربے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایسے منظم اور مؤثر پروگراموں کا اہتمام کریں، تاکہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے فروغ اور علمی و ثقافتی خدمت کا جذبہ پورے معاشرے میں پروان چڑھے۔
تربیتی دور کے اختتام پر مطالعۂ کتب کی ترویج کے لیے تمام شرکاء کو "الخصائص الحسینیۃ” کا ایک ایک نسخہ بطور تحفہ پیش کیا گیا۔
منتظمین کے مطابق یہ تربیتی منصوبہ محض ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ سال بھر جاری رہنے والا مستقل پروگرام ہے، جس کا مقصد مکتبِ عاشورا سے وابستہ، صاحبِ بصیرت، باایمان اور ذمہ دار نسل کی تربیت کرنا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے میں دینی و اخلاقی اقدار کے مؤثر سفیر بن سکیں۔




