یورپ

سلووینیا کے مسلمانوں کی جدوجہد کے بعد لیوبلیانا کی پہلی مسجد اور ثقافتی مرکز کی تعمیر

سلووینیا کے مسلمانوں کی جدوجہد کے بعد لیوبلیانا کی پہلی مسجد اور ثقافتی مرکز کی تعمیر

یورپ کے قلب میں مذہبی اقلیتوں کی ادارہ جاتی موجودگی کی تثبیت، آبادیاتی تغیرات، دینی تشخص اور بین المذاہب پرامن بقائے باہمی کے مابین پیہم تعامل کی عکاسی کرتی ہے۔

سلووینیا کی مسلم برادری جس کی تشکیل سابق یوگوسلاویہ کے عہد اور اس کے بعد کے تحولات کے دوران ہجرت کی لہروں اور آبادی کی نقل و حرکت سے جڑی ہوئی ہے، نے اپنے روحانی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی عرصے میں قابلِ قدر پائیداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

"دائرۃ المعارف برٹانیکا” کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دہائیوں میں سلووینیا میں مسلمانوں کی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، یہاں تک کہ وہ اس ملک بالخصوص دارالحکومت میں دوسرا بڑا مذہبی گروہ بن چکے ہیں۔

دہائیوں کی مسلسل پیگیری اور قانونی و انتظامی رکاوٹوں پر قابو پانے کے بعد 2013 میں اسلامی ثقافتی مرکز اور مسجدِ لیوبلیانا کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور یہ ماندگار تعمیر 2020 میں افتتاح کو پہنچی۔

اس مرکز کے افتتاح کو مسلمانوں کی دینی سرگرمیوں کو رسمی حیثیت دینے اور اس یورپی ملک میں ثقافتی پیوندوں کے استحکام میں ایک نقطۂ عطف قرار دیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button