خبریںعراق

اربعین مارچ کی عالمی شان؛ سعودی زائر کا عراقی موکبوں کی بے مثال سخاوت اور مہمان نوازی کو خراجِ تحسین

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک زائر، جو مسلسل دوسرے سال بھی اربعین حسینی کے پیدل مارچ میں شریک ہوئے ہیں، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عظیم عالمی اجتماع کو اپنی نوعیت کا منفرد اور بے مثال قرار دیا۔ انہوں نے کربلا کے راستے میں قائم عراقی موکبوں کی بے لوث خدمت، فیاضی اور مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کے عزم و استقامت کو بھی سراہا۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

اربعین حسینی کا عظیم پیدل مارچ ہر سال عشقِ اہلِ بیتؑ، روحانیت اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و اخوت کی بے مثال جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ عظیم اجتماع سرحدوں، زبانوں اور قومیتوں سے بالاتر ہو کر دنیا بھر کے کروڑوں عاشقانِ امام حسینؑ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک زائر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربعین کا پیدل مارچ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے عراق کے شیعہ عوام کی بے پایاں سخاوت، ایثار اور خدمتِ زائرین کے جذبے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، یہ سعودی زائر مسلسل دوسرے سال اس روحانی سفر میں شریک ہیں اور بصرہ سے کربلا تک تقریباً 480 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ سے عقیدت اور محبت کے جذبے کے تحت پورے راستے میں قائم عراقی موکبوں کی جانب سے زائرین کی خدمت اور مہمان نوازی ایک لمحے کے لیے بھی معطل نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ عراقی شیعہ لاکھوں زائرین کے کھانے، رہائش اور دیگر ضروریات کا جس منظم انداز میں انتظام کرتے ہیں، وہ ایثار اور قربانی کی ایسی مثال ہے جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

ان کے بقول، یہ موکب کسی مادی منفعت یا صلے کی توقع کے بغیر شب و روز زائرین کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں اور حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ کے زائرین کی خدمت کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں۔

سعودی زائر نے اربعین حسینی کو ایک بے مثال عالمی مذہبی اجتماع قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، ایران اور دیگر متعدد ممالک سے آنے والے زائرین کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اس عظیم روحانی اجتماع کی شان اور معنوی عظمت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ اور ان کے دیگر سعودی ساتھی سترہ روز سے پیدل سفر کر رہے ہیں، لیکن پاکستان، افغانستان اور ایران سمیت مختلف ممالک سے آنے والے ایسے زائرین کے عزم و حوصلے کے مقابلے میں، جو بعض اوقات کئی عشرے نہیں بلکہ کئی دہائیوں نہیں—بلکہ کئی عشرے غلط ہے—کئی ہفتوں اور بعض اوقات کئی دہائیوں نہیں، بلکہ کئی دنوں یا ہفتوں تک مسلسل پیدل سفر کرتے ہیں، ان کا سفر بہت مختصر محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے زائرین کے باہمی ایثار اور عراقی میزبانوں کی بے مثال مہمان نوازی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت امام حسینؑ کی محبت میں ایسی روحانی کشش موجود ہے جو مختلف قوموں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو اخوت، محبت اور یکجہتی کے رشتے میں جوڑ دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button