دسویں ذی الحجہ، عید سعید قربان اور دہۂ بزرگداشتِ عید غدیر کا آغاز

عید قربان یا عیدالاضحیٰ دسویں ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے اور یہ اسلام کی عظیم عیدوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی روز حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان گاہ میں لے گئے، تو جبرئیل امین ایک مینڈھا لے کر نازل ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کو قربان کریں۔ دہۂ بزرگداشتِ عید غدیر کا آغاز بھی اسی روز سے ہوتا ہے۔
روایات کے مطابق اسی روز خداوندِ متعال نے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو راہِ خدا میں قربان کریں۔ سرزمینِ منیٰ میں عید قربان کے روز قربانی کی سنّت اسی واقعے کی یادگار ہے۔ قربانی اُن حاجیوں پر واجب ہے جو سرزمینِ منیٰ میں موجود ہوں، جبکہ دیگر مسلمانوں کے لیے یہ مستحبِّ مؤکد ہے۔ در حقیقت عید قربان کی فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور نفسانی تمایلات کو بارگاہِ الٰہی میں قربان کر دے۔ اس عید کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مقامِ قربِ الٰہی کی طرف پلٹے، جو مقام نفسانی خواہشات سے جہاد کرنے، تہذیبِ نفس، خود سازی اور ناب فرصتوں سے استفادہ کرنے کے سائے میں حاصل ہوتا ہے۔ عید قربان حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے امتحان و آزمائش کا دن ہے جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے۔ شاید امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ اور اس روز آپؑ کی زیارت کا ثواب اس بات سے خالی از ربط نہ ہو کہ یہ دن عید قربان کا مقدمہ ہے، کیونکہ دینی مفاہیم میں ”ذبحِ عظیم” کو تاریخِ خلقت کی ایک عظیم حقیقت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور خداوندِ متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے پہلے ہی اہلِ آسمان کو اس کی خبر دے دی تھی، اور ملائکۂ الٰہی نے اس عظیم واقعے کی خبر تمام ادوار کے انبیاء و اولیاء کو پہنچائی۔ ”ذبحِ عظیم” اشرف المخلوقات کے فرزند کو خداوند کی بدترین مخلوق کے ہاتھوں ذبح کیے جانے کا ماجرا ہے۔ ”ذبحِ عظیم” حسین بن علی علیہ السلام کا ذبح ہے جو خداوند کی ازلی تقدیر کے مطابق نہایت حساس حالات میں قضائے الٰہی پر رضامند ہوتے ہیں اور اپنا خون نچھاور کر کے دینِ خدا کو زندہ کر دیتے ہیں۔ ”ذبحِ عظیم” ملائکہ، انبیاء اور اولیائے الٰہی میں تاریخِ خلقت کے مشہور ترین واقعات میں سے ہے اور بارگاہِ الٰہی میں اس کی عظمت و حرمت بے پناہ ہے۔ جو بھی اس کا توسل اختیار کرے، اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے اور وہ بارگاہِ الٰہی میں عظیم مقام پر فائز ہوتا ہے۔ دینی منابع میں عید قربان کی شب اور روز کے لیے متعدد اعمال ذکر کیے گئے ہیں جن میں شب بیداری، زیارتِ امام حسین علیہ السلام، غسل، دعائے ندبہ اور نمازِ عیدِ قربان شامل ہیں۔ اس روز روزہ رکھنا حرام ہے۔




