نہم ذی الحجہ حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی تاریخ ہے

ابو عبداللہ حضرت مسلم بن عقیل بن ابی طالبؑ، امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بھتیجے، اور واقعۂ عاشورا کے وقت حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے سفیر تھے۔ بنی ہاشم کے بہادر جوانوں میں آپ ایک درخشاں چہرہ اور نمایاں شخصیت شمار ہوتے تھے۔
آئیے، ہمارے ساتھی کی تیار کردہ اس رپورٹ پر توجہ فرمائیں جو نہم ذی الحجہ، حضرت مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی مناسبت سے پیش کی گئی ہے:
جب امام حسین علیہ السلام مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت مسلم بن عقیل بھی آپ کے ہمراہ تھے۔
اس کے بعد جب اہلِ کوفہ کے خطوط امام حسین علیہ السلام تک پہنچے تو آپ نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیں اور کوفیوں کے اس دعوے کی حقیقت معلوم کریں کہ امامؑ کے ماننے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں، اور پھر اس کی رپورٹ امامؑ کو پیش کریں۔
حضرت مسلم بن عقیل ۵ شوال کو کوفہ پہنچے۔ شیعیانِ اہل بیت آپ کی قیام گاہ پر آتے جاتے تھے اور حضرت مسلم انہیں امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھ کر سناتے تھے۔
کوفہ میں بارہ ہزار افراد نے حضرت مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی اور امام علیہ السلام کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
بعض نے بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار لکھی ہے اور بعض نے تیس ہزار سے بھی زیادہ بیان کی ہے۔
حضرت مسلم بن عقیل نے ۱۱ ذی القعدہ کو امام حسین علیہ السلام کے نام خط لکھا اور بیعت کرنے والوں کی کثیر تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔
عبیداللہ بن زیاد کے کوفہ آیا اور اس کی دھمکیوں اور اقدامات کی خبریں پھیلنے کے بعد کوفہ کا ماحول غیر محفوظ ہوگیا۔
حضرت مسلم بن عقیل اپنی حفاظت کی خاطر کوفہ کے بزرگ ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہوگئے، اور اس کے بعد شیعیانِ اہل بیت حضرت مسلم سے ملاقات کے لیے ہانی کے گھر آنے لگے۔
تاریخی روایات کے مطابق عبیداللہ بن زیاد کے ساتھیوں کی دھمکیوں اور پروپیگنڈے کے باعث لوگ خوف زدہ ہوگئے اور آہستہ آہستہ حضرت مسلمؑ کا ساتھ چھوڑتے گئے، یہاں تک کہ رات کے وقت حضرت مسلمؑ تنہا رہ گئے۔
جب آپ نے نماز مکمل کی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا۔ آپ اس قدر بے یار و مددگار ہوگئے کہ سر چھپانے کی بھی کوئی جگہ نہ رہی۔
تنہائی اور بے سہارا ہونے کے بعد حضرت مسلم بن عقیل نے طوعہ نامی ایک خاتون کے گھر پناہ لی اور وہیں مخفی ہوگئے۔
لیکن اگلی صبح طوعہ کے بیٹے نے حکومت کے کارندوں کو خبر دے دی۔
اس پر ابن زیاد نے محمد بن اشعث کو ستر افراد کے ساتھ روانہ کیا تاکہ حضرت مسلمؑ کو گرفتار کرکے دربار میں لایا جائے۔
حضرت مسلم بن عقیل کو دارالامارہ کی چھت پر لے جایا گیا، اور آپ اس حال میں کہ ذکرِ خدا، تکبیر اور خاندانِ پیغمبرؐ پر درود بھیج رہے تھے، آپ کا سر مبارک تن سے جدا کردیا گیا اور آپ کے جسدِ مبارک کو نیچے پھینک دیا گیا۔
آپ کی شہادت روزِ عرفہ، نہم ذی الحجہ سن ۶۰ ہجری کو ہوئی۔ حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر اس وقت امام حسین علیہ السلام تک پہنچی جب آپؑ مکہ سے روانہ ہوچکے تھے اور کوفہ کی طرف سفر میں تھے۔




