خبریںیورپ

لیورپول کی مسجد میں نسلی توہین

برطانیہ اور یورپ میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ایک بار پھر تشویشناک

شہر لیورپول کی ایک مسجد میں نمازیوں کو نسلی توہین اور دھمکیوں کا نشانہ بنانے کے واقعہ نے ایک بار پھر برطانیہ اور یورپ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مسلم عبادت گاہوں کے عدم تحفظ پر خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی میں اضافے پر خبردار کر چکی ہیں۔

مرسی سائیڈ پولیس کے مطابق، 58 سالہ ایک شخص نے لیورپول کی عبداللہ کوئلیام مسجد کے استقبالیہ حصہ میں داخل ہو کر نسلی اور دھمکی آمیز نعرے لگائے اور نمازیوں کو ہراساں کیا، جسے چند گھنٹوں بعد گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس نے مسجد کے اطراف سیکیورٹی گشت میں اضافے کا بھی اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس شخص نے مسجد کے کھلے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اندر موجود مسلمانوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔

اس واقعہ کے بعد سماجی کارکنان اور انسدادِ نفرت تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔

گزشتہ چند برسوں میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، سویڈن اور ہالینڈ میں اس نوعیت کے متعدد اسلاموفوبک واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

جن میں مساجد پر حملے، اسلامی مراکز کو نذرِ آتش کرنا، باحجاب خواتین کی توہین اور نمازیوں کو دھمکانا شامل ہے۔

اسی طرح کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا کے بعض شہروں میں بھی مسلمانوں کو امتیازی سلوک اور نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ نفرت انگیزی کا مقابلہ مؤثر قانون سازی، عوامی آگاہی، مذہبی آزادی کے تحفظ اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ ایسے واقعات کا تسلسل معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button