مقالات و مضامین

الارم گھڑی کی ایجاد سے پہلے جاگنے کے تخلیقی طریقے؛ وقت ناپنے والی موم بتیوں سے لے کر گلیوں کے "جاگتے رہو" تک

الارم گھڑیوں کے عام ہونے سے پہلے، انسان مقررہ وقت پر جاگنے کے لئے مختلف طریقے اور اوزار استعمال کرتا تھا۔

سورج کی روشنی کا قدرتی چکر، ماحول کی آوازیں، اور تخلیقی ذرائع جیسے پانی کی گھڑیاں، وقت ناپنے والی موم بتیاں اور گلیوں میں بیدار کرنے والے افراد، لوگوں کے سونے اور جاگنے کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

اس حوالے سے ہماری رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

صنعت سے قبل معاشروں میں لوگوں کے جاگنے کا وقت زیادہ تر سورج کے طلوع ہونے اور جسم کے قدرتی نظام کے مطابق ہوتا تھا، لیکن کام، مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے جاگنے کے لئے زیادہ درست طریقوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں لوگوں نے جاگنے کے لئے کئی دلچسپ اور تخلیقی طریقے اختیار کئے۔

قدیم چین میں، وقت ناپنے والی موم بتیوں پر مخصوص نشانات لگائے جاتے تھے، اور جب موم پگھلتا تو دھات کی کیلیں گر کر آواز پیدا کرتیں جو الارم کا کام دیتی تھیں۔

اسی طرح لوبان کی گھڑیاں بھی استعمال ہوتی تھیں، جن میں عود جلنے کے ساتھ دھاتی گولیاں برتن میں گرتیں اور لوگوں کو بیدار کرتیں۔

قدیم یونان میں پانی کی گھڑی “کلپسیدرا” ہوا کے دباؤ سے سیٹی جیسی آواز پیدا کرتی تھی، جو جاگنے کا اشارہ ہوتی تھی۔

قرونِ وسطیٰ میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ، گھنٹیوں والی مکینیکل گھڑیاں بھی سامنے آئیں۔

اس کے علاوہ روزمرہ زندگی میں قدرتی اشارے جیسے مرغ کی بانگ، پرندوں کی آوازیں اور گرجا گھروں کی گھنٹیاں عام بیدارباش کے ذرائع تھے۔ کئی گھروں میں خادموں کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ مقررہ وقت پر گھر والوں کو جگائیں۔

قدیم ایران میں بھی جاگنے کے لئے مختلف تخلیقی طریقے رائج تھے۔

بعض شہروں میں خادم یا گھر کے افراد دروازہ کھٹکھٹا کر یا پردے ہلا کر لوگوں کو بیدار کرتے تھے۔

اسی طرح کئی علاقوں میں فجر کی اذان اور مساجد کی آوازیں دن کے آغاز اور عبادت کے لیے اہم بیدارباش سمجھی جاتی تھیں۔

یہ طریقے ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر بھی ایرانی معاشرے میں نظم و ضبط اور وقت کی اہمیت کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا تھا۔

برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے آغاز کے ساتھ، کارخانوں میں کام کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہو گئی، جبکہ الارم گھڑیاں مہنگی اور کم دستیاب تھیں۔ اسی وجہ سے “گلیوں میں جاگتے رہو” کا پیشہ وجود میں آیا۔

یہ لوگ رات کے وقت گلیوں میں گھومتے، کھڑکیوں پر ڈنڈے مارتے یا چھوٹی نالیوں کے ذریعہ چنے کے دانے شیشوں پر مارتے تاکہ لوگوں کو جگا سکیں۔ وہ اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے تھے جب تک اندر سے جواب نہ مل جائے۔ یہ پیشہ بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔

آج کے دور میں ڈیجیٹل گھڑیوں اور اسمارٹ فونز کے عام ہونے کے باعث روایتی "جاگتے رہو” کے طریقوں کی ضرورت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

تاہم، ان قدیم طریقوں کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان ہمیشہ وقت کی قدر اور نظمِ زندگی کے لیے کوشاں رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آج بھی ان تخلیقی طریقوں سے سیکھ کر ہم وقت کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی کو منظم بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button