پاکستان میں شیعہ حقوق: 79 برس سے تشدد اور عدمِ تحفظ
پاکستان میں شیعہ حقوق: 79 برس سے تشدد اور عدمِ تحفظ
اسلام آباد: قیامِ پاکستان سے 14 اگست 2026ء تک شیعہ برادری کو ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، امام بارگاہوں اور مذہبی اجتماعات پر حملوں، سنی تکفیری و نفرت انگیز مہمات اور بعض علاقوں میں ریاستی تحفظ کی ناکامی کا سامنا رہا ہے۔
1980ء کی دہائی کے بعد فرقہ وارانہ شدت پسندی میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ 1990ء کی دہائی میں سپاہِ صحابہ پاکستان اور لشکرِ جھنگوی جیسی شدت پسند سنی تنظیموں کے باعث شیعہ مخالف تشدد نے منظم صورت اختیار کی۔ کراچی، کوئٹہ، پاراچنار، گلگت، جھنگ اور دیگر علاقوں میں شیعہ علماء، شہریوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔
خصوصاً بلوچستان کی ہزارہ شیعہ برادری طویل عرصے تک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بنتی رہی۔ 2013ء میں کوئٹہ میں ہونے والے پے در پے بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہزارہ شیعہ شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ جنوری 2021ء میں مچھ میں 11 ہزارہ شیعہ کان کنوں کا قتل بھی اسی سلسلے کا ایک سنگین واقعہ تھا۔
2024ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی نے انتہائی سنگین صورت اختیار کی۔ نومبر میں شیعہ مسافروں کے قافلے پر حملے میں 42 افراد شہید ہوئے، جبکہ راستوں کی طویل بندش کے باعث خوراک، ادویات، علاج اور آمدورفت میں مشکلات نے انسانی بحران کو جنم دیا۔
2026ء کا اب تک کا سب سے سنگین واقعہ 6 فروری کو اسلام آباد کی خدیجۃ الکبریٰ مسجد و امام بارگاہ پر خودکش حملہ تھا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوئے۔ سنی انتہا پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں شیعہ شہریوں کو آئینی طور پر مذہبی آزادی اور مساوی شہری حقوق حاصل ہیں، تاہم عملی طور پر حقِ زندگی، مذہبی آزادی، عبادت گاہوں کے تحفظ، نقل و حرکت اور مؤثر قانونی تحفظ کے حوالے سے سنگین مسائل بدستور موجود ہیں۔
14 اگست 2026ء تک فرقہ وارانہ حملوں میں شہید ہونے والے شیعہ شہریوں کی مجموعی تعداد کا کوئی مستند، جامع اور متفقہ سرکاری ریکارڈ دستیاب نہیں۔ تاہم ملکی و عالمی انسانی حقوق کی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شیعہ برادری کئی دہائیوں سے فرقہ وارانہ تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور عدمِ تحفظ کا سامنا کرتی آئی ہے۔




