ذی الحجہ؛ مکہ سے امام حسین علیہ السلام کا عظیم سفر اور کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کا آغاز قیام

8 ذی الحجہ، یومِ ترویہ…
وہ دن جب خانۂ کعبہ میں لبیک کی صدائیں بلند تھیں، حاجیوں کے قافلے مناسکِ حج کی تیاری میں مصروف تھے، مگر اسی ہجومِ عبادت میں تاریخ ایک اور عظیم باب رقم کرنے جا رہی تھی۔
اسی روز امام حسین علیہ السلام نے حرمِ امنِ الٰہی کو الوداع کہا؛ نہ اس لئے کہ سفر آسان تھا، بلکہ اس لئے کہ حق کا راستہ قربانی مانگ رہا تھا۔
یزیدی اقتدار کی خفیہ سازش یہ تھی کہ فرزندِ رسولؐ کو مکہ ہی میں خون میں نہلا دیا جائے، تاکہ حرمتِ کعبہ بھی پامال ہو اور صدائے حق بھی خاموش کر دی جائے۔ مگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے بیت اللہ کی حرمت بچانے کے لئے احرامِ حج کو عمرے میں بدل دیا اور مکہ سے عراق کی سمت روانہ ہوگئے۔
یوں تاریخ نے دیکھا کہ ایک طرف لوگ حج کی طرف بڑھ رہے تھے اور دوسری طرف حجِ حقیقی، انسانیت کی بقا کے لئے سفرِ کربلا پر نکل پڑا۔
ادھر کوفہ میں ظلم کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے کارندوں نے وفادارِ اہلِ بیت ہانی بن عروہ کو گرفتار کر لیا۔
یہ خبر جب حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام تک پہنچی تو آپؑ نے سکوت کو توڑتے ہوئے قیام کی صدا بلند کی۔ کوفہ کی گلیوں میں حق کی آواز گونجی اور عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام اپنے سفیر کے گرد جمع ہونے لگے تاکہ ہانی بن عروہ کو آزاد کرا سکیں اور ظلم کے ایوانوں کو للکار سکیں۔
یومِ ترویہ دراصل تاریخ کا وہ نازک موڑ ہے جہاں حج کے مناسک، مظلومیتِ آلِ محمد علیہم السلام اور قیامِ حق ایک دوسرے سے آ ملتے ہیں۔
یہی وہ لمحہ تھا جب قافلۂ حسینی مکہ سے اٹھا اور کربلا کی ابدی منزل کی طرف روانہ ہوا، تاکہ رہتی دنیا تک یہ پیغام زندہ رہے کہ حق کبھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتا، اور قربانی کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔




