محرم: شمر کی آمد، امان نامے کی پیشکش اور شبِ عاشور کی مہلت

کربلا میں شمر کی آمد
9 محرم الحرام 61 ہجری کی دوپہر سے قبل شمر بن ذی الجوشن ملعون چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ کربلا پہنچا اور عبیداللہ بن زیاد کا خط عمر بن سعد کے حوالے کیا۔ خط میں سختی سے ہدایت تھی کہ امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر آمادہ کرے یا جنگ کا آغاز کرے، ورنہ لشکر کی قیادت شمر کے سپرد کر دے۔ عمر بن سعد نے شمر کو ملامت کرتے ہوئے کہا کہ اسی نے صلح کی تجویز ناکام بنائی، اور قسم کھائی کہ حسینؑ ہرگز بیعت قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی عزتِ نفس اور حق پسندی ہے۔ شمر نے فیصلہ طلب کیا تو عمر بن سعد نے قیادت دینے سے انکار کیا مگر شمر کو پیادہ فوج کا کمانڈر بنا دیا۔ شمر کی آمد سے صلح کی معمولی امید بھی ختم ہو گئی اور تاسوعا کی شام فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ثابت ہوئی۔
حضرت امّ البنین سلام اللہ علیہا کے فرزندوں کے لئے امان نامہ
عبداللہ بن ابی المحل نے عبیداللہ بن زیاد سے اپنے بھانجوں کے لئے امان نامہ لکھنے کی درخواست کی، جو قبول کر لی گئی۔ ایک روایت میں غلام کزمان نے امان نامہ حضرت عباس علیہ السلام اور بھائیوں کو پڑھ کر سنایا جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ دوسری روایت کے مطابق شمر خود امان نامہ لے کر آیا اور پکارا: "میری بہن کے بیٹے کہاں ہیں؟” امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ فاسق ہے مگر چونکہ والدہ کے قبیلے سے ہے، جواب دیا جائے۔ حضرت عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر نے امان کی پیشکش کی۔ انہوں نے جلال سے جواب دیا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے! کیا ہمیں امان ہو اور رسولِ خداؐ کے نواسے امان میں نہ ہوں؟” یہ جواب وفاداری اور ایثار کی لازوال مثال بنا۔
جنگ کی تیاری
شام کو عمر بن سعد نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور نعرہ بلند کیا: "یَا خَیْلَ اللّٰہِ ارْکَبِی وَبِالْجَنَّۃِ اَبْشِرِی” یعنی اے لشکر خدا، سوار ہو جاؤ اور جنت کی بشارت پاؤ۔ لشکرِ کوفہ صف آرا ہونے لگا اور میدانِ کربلا میں فیصلہ کن معرکے کی فضا قائم ہو گئی۔
عصرِ تاسوعا میں جنگ کا اعلان
امام حسین علیہ السلام تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے دشمن کے شور سن کر پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ رسولِ خداؐ کو خواب میں دیکھا جنہوں نے فرمایا: "تم بہت جلد ہمارے پاس آ جاؤ گے۔” زینب سلام اللہ علیہا غم سے بے قرار ہوئیں، امام علیہ السلام نے صبر کی تلقین کی۔ حضرت عباس علیہ السلام نے دشمن کے قریب آنے کی خبر دی۔ امام علیہ السلام نے انہیں بیس سواروں، بشمول زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر علیہما السلام کے ہمراہ دشمن کے پاس بھیجا۔ دشمن نے بیعت یا جنگ کا پیغام دیا جو حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام تک پہنچایا۔
ایک رات کی مہلت کا مطالبہ
امام حسین علیہ السلام نے جنگ کل تک مؤخر کرنے اور رات عبادت، دعا، نماز اور تلاوتِ قرآن میں گزارنے کی مہلت طلب کی۔ اس دوران حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے زہیر بن قین علیہ السلام کی اجازت سے دشمن کے لشکر کو خطاب کیا اور انہیں اہلِ بیتؑ کے قتل سے خبردار کیا۔ عزرہ بن قیس کے طنز پر زہیر بن قین علیہ السلام نے جواب دیا کہ سفر میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات پر انہیں رسولِ خداؐ کے نزدیک ان کا مقام یاد آیا اور حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ حضرت عباس علیہ السلام دوبارہ گئے اور مہلت کی درخواست دہرائی۔ عمر بن سعد نے شمر، عمرو بن حجاج اور قیس بن اشعث سے مشورہ کیا، جن میں سے قیس بن اشعث نے درخواست قبول کرنے کی رائے دی۔
ایک رات کی مہلت
عمر بن سعد نے مہلت دینے پر رضامندی ظاہر کی اور قاصد کے ذریعے اعلان کرایا کہ بیعت کرنے پر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جایا جائے گا، ورنہ جنگ ہوگی۔ لشکرِ کوفہ خیموں کی طرف لوٹ گیا اور اہلِ بیتؑ کو شبِ عاشور عبادت میں بسر کرنے کا موقع ملا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تاسوعا کے دن دشمن نے محاصرہ کیا اور اپنی کثرت پر خوش ہوا، یہ سمجھ کر کہ کوئی مددگار نہیں آئے گا۔ شبِ عاشور وفا، عبادت اور تسلیم و رضا کی عظیم رات بنی جس نے حق و باطل کے ابدی معرکے کی بنیاد رکھی۔




